انوارالعلوم (جلد 15) — Page 184
انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم طرف جو بادشاہ ہے، پاک ہے اور السلم یعنی دنیا کو امن دینے والا اور تمام سلامتیوں کا سرچشمہ ہے۔یعنی جس طرح ماں باپ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے بچے لڑیں جھگڑیں یا فساد کریں، بلکہ وہ امن شکن کو سزا دیتے اور امن قائم رکھنے والے بچے سے پیار کرتے ہیں۔اس طرح تمہارے اوپر بھی ایک خدا ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے مفاد مختلف ہیں، تمہارے ارادے مختلف ہیں، تمہاری ضرورتیں مختلف ہیں ، تمہاری خواہشیں مختلف ہیں اور تم بعض دفعہ جذبات میں بے قابو ہو کر امن شکن حرکات پر تیار ہو جاتے ہو، مگر یاد رکھو خدا ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتا وہ سلام ہے جب تک کوئی سلامتی اختیار نہ کرے اُس وقت تک وہ اس کا محبوب نہیں ہو سکتا۔۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ خالی امن کی خواہش امن پیدا نہیں کر دیا کرتی کیونکہ بالعموم امن کی خواہش اپنے لئے ہوتی ہے دوسروں کیلئے نہیں ہوتی۔چنانچہ جب لوگ کہتے ہیں دولت بڑی اچھی چیز ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ دشمن کی دولت بھی اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لئے اچھی چیز ہے اور جب وہ کہتے ہیں صحت بڑی اچھی چیز ہے تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہوتے کہ میرے دشمن کی صحت اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لئے صحت بڑی اچھی چیز ہے ورنہ دشمن کے متعلق تو انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ نادار اور کمزور ہو۔اسی طرح جب لوگ عزت ورتبہ کے متمنی ہوتے ہیں تو ہر شخص کیلئے نہیں بلکہ محض اپنے لئے۔پس جب دنیا کا یہ حال ہے تو خالی امن کی خواہش بھی فساد کا موجب ہو سکتی ہے کیونکہ جو لوگ بھی امن کے متمنی ہیں وہ اس رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اور ان کی قوم کو امن حاصل رہے اور نہ دشمن کیلئے وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس کے امن کو مٹادیں۔اب اگر اس اصل کو رائج کر دیا جائے تو دنیا میں جو بھی امن قائم ہو گا وہ چند لوگوں کا امن ہو گا۔ساری دنیا کا نہیں ہوگا اور جو ساری دنیا کا امن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلا سکتا۔حقیقی امن تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جو میرے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ ساری دنیا کیلئے امن چاہتی ہے اور جو میرے ملک کے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ سارے ملکوں کیلئے امن چاہتی ہے اور اگر میں صرف اپنے لئے یا صرف اپنی قوم کیلئے یا صرف اپنے ملک کیلئے امن کا متمنی ہوں تو اس صورت میں مجھے اس کی مدد، اس کی نصرت اور اس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔جب یہ عقیدہ دنیا میں رائج ہو جائے تبھی امن قائم ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔پس الملكُ الْقُدُّوسُ السّلم کہہ کر رسول كريم