انوارالعلوم (جلد 15) — Page 180
انوار العلوم جلد ۱۵ بشارت دینے سب خورد اچھلتی کودتی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم و کلاں کو جا رہی ہیں حقیقت یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد دنیا کے قلوب میں محبت نے ایک ایسا پلٹا کھایا ہے کہ وہ پہلی محبتیں جو دلوں میں پائی جاتی تھیں ، اُن کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ محبت کا مادہ ایک فطرتی مادہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی قلب میں اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ بندے کو اپنے رب کی طرف توجہ دلائے ۔ جب تک اصل چیز نہیں ملتی انسان درمیانی چیزوں سے اس جذبہ کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں دیکھا کہ ایک عورت بہت ہی اضطراب اور اضطرار کے ساتھ ادھر اُدھر پھر رہی ہے وہ جہاں کوئی بچہ دیکھتی اُسے اُٹھاتی ، سینہ سے لگاتی اور پھر دیوانہ وار تلاشہ اور پھر دیوانہ وار تلاش میں مصروف ہو جاتی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ اُٹھائی اور آپ اُسے دیکھتے رہے جہاں اسے کوئی بچہ نظر آتا وہ اسے اُٹھاتی ، سینہ سے لگاتی اور پھر آگے کی طرف چل دیتی یہاں تک کہ اُسے ایک بچہ نظر آیا جسے اُس نے سینہ سے لگایا اور پھر وہ اسے سینہ سے چمٹائے اس میدانِ جنگ میں ایسے اطمینان سے بیٹھ گئی کہ اُسے خیال ہی نہ رہا کہ یہاں جنگ ہو رہی ہے ۔ وہ دنیا وَ مَا فِيهَا سے بے خبر اپنے بچہ کو گود میں لئے میدانِ جنگ میں بیٹھی رہی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم نے اس عورت کو دیکھا جب تک اسے اپنا بچہ نہیں ملا تھا یہ اس کی یاد میں ہر بچہ کو اُٹھاتی ، اسے پیار کرتی اور اپنے سینہ سے چمٹاتی مگر اسے تسکین نہیں ہوتی تھی لیکن جب اسے اپنا بچہ مل گیا تو اس نے اسے اپنے سینہ سے لگا لیا اور یوں بیٹھ گئی کہ دنیا وَ مَا فِيهَا کی اسے کوئی خبر نہ رہی پھر آپ نے فرمایا جس طرح اس عورت کو اپنے بچہ کے ملنے سے خوشی ہوئی ہے ایسی ہی خوشی اللہ تعالیٰ کو اُس وقت ہوتی ہے جب اس کا کوئی گنہگار بندہ تو بہ کر کے اُس کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ اس مثال سے جہاں اور کئی قسم کے سبق ملتے ہیں وہاں ایک سبق اس سے یہ بھی ملتا ہے کہ جب تک حقیقی محبوب نہیں ملتا انسان عارضی طور پر دوسرے محبوبوں سے دل لگا کر اپنے دل کی جلن دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ اور اُس کے رسول کی محبت کا جذبہ جو حقیقی ہے جب تک پیدا نہیں ہوتا انسان دوسری محبتوں سے اپنے دل کو تسکین دینے کی کوشش کرتا ہے لیکن جب اسے حقیقی محبوب جو خدا ہے مل جاتا ہے تو اُس وقت وہ سمجھتا ہے کہ جس چیز کا نام لوگوں نے عشق مجاز رکھا ہوا ہے وہ بالکل بے حقیقت ہے ۔ ایک دفعہ اس خیال کے ماتحت میں نے ایک شعر اس کے