انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxi

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کت دیں تو ٹھیک ورنہ جرمنی پولینڈ کو کچل دے اور دونوں ممالک اس کو تقسیم کر لیں۔نیز اس مضمون میں حضور نے اس جنگ کے بعد کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور اپنی بصیرت اور فراست سے اتحادیوں کو مفید مشورے دیتے ہیں۔(۱۴) خدام سے خطاب حضرت مصلح موعود نے یہ خطاب مؤرخہ ۲۵ / دسمبر ۱۹۳۹ء کو برموقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ارشاد فرمایا۔اس خطاب کے آغاز میں حضور انور نے بعض انتظامی غلطیوں کی نشاندہی فرمائی اور انتظامی امور سے متعلق بعض مفید مشورے عطا فرمائے۔یہ اجتماع جلسہ سالانہ سے ایک روز قبل منعقد کیا گیا جس سے جلسہ سالانہ کے انتظامات میں دقتیں پیش آئیں اس لئے فرمایا کہ آئندہ ایسے اجتماع جلسہ سالانہ کے ساتھ نہ رکھے جائیں۔اس اجتماع پر پہلی دفعہ اول آنے والی مجلس کو علیم انعامی دینے کا فیصلہ ہوؤ امگر چونکہ جماعت کے جھنڈے کی ابھی قانونی طور پر منظوری نہیں ہوئی تھی اس لئے اس موقع پر حضور نے جماعت کے جھنڈے کی منظوری دیتے ہوئے اعلان فرمایا کہ یہ علم انعامی آج کی بجائے جلسہ کے آخری روز دیا جائے گا جب جماعت کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔اس موقع پر آپ نے خدام کو نصائح کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔پس آج میں یہ دو باتیں خاص طور پر خدام الاحمدیہ سے کہنا چاہتا ہوں اوّل یہ کہ واقعات کی دنیا میں قیاس سے کام نہ لو اور جو کام تمہارے سپرد کیا جائے اُس کے متعلق اُس وقت تک مطمئن نہ ہو جاؤ جب تک وہ ہو نہ جائے اور دوسرے یہ کہ کام اختیار کرتے وقت پوری احتیاط سے کام لو۔وہ کام اپنے یا دوسروں کے ذمہ نہ لگاؤ جو تم جانتے ہو کہ نہیں کر سکتے اور جب اس امر کا اطمینان کرلو کہ اچھا کام ہے اور تم کر سکتے ہو تو پھر خود سے کرنے سے مت جھجھکو۔پھر جب یہ دیکھو کہ کام ضروری ہے مگر تمہارا نفس کہتا ہے کہ تم اسے کر نہیں سکتے تو اپنے نفس سے کہو کہ تو جھوٹا ہے اور غلط کہتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ ضرور کر دے گا اور پھر اسے شروع کر دو۔ان نصائح کے بعد حضور نے بطور نمونہ اپنی زندگی کے بعض ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔