انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 176

انوارالعلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب کہلا سکتا۔میں بچہ تھا کہ ہمارے گھر ایک عورت آئی اس نے پانی مانگا۔اس کو حضرت (اماں جان ) نے پانی دیا۔اس نے کہا کہ تم جانتی نہیں میں سیدانی ہوں اور آل رسول ہوں مجھے تم امتیوں کے گلاس میں پانی پلاتی ہو۔میں نے جب اس کے منہ سے یہ بات سنی تو میرے دل میں اس کے متعلق عزت کا جذبہ پیدا نہیں ہوا بلکہ مجھے اس سے شدید نفرت پیدا ہوئی۔پس تم رسول کریم کے ساتھ بھی جسمانی تعلق کی وجہ سے حقیقی عزت حاصل نہیں کر سکتے ہاں یہ طفیلی عزت ضرور ہے۔حقیقی عزت اس وقت ہوتی ہے جب اس میں اپنا کمال بھی داخل کیا جائے۔پس تم حقیقی عزت حاصل کرنے کی کوشش کر و جماعت کی خدمت کرو اگر تم اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم دوہرے اجر کے مستحق ہو گے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم اس دین کو قبول کر لوتو تم کو دوہرا اجر ملے گا اور اگر اعراض کرو گے اور اس دین کو رڈ کر دو گے تو پھر عذاب بھی دوہرا ہے۔پس تمہارا تعلیم کے بعد واپس آنا تم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے تم لوگوں کو احمدیت کی تعلیم سے روشناس کرانے کی کوشش کرو اور لوگوں کو سچائی کی تلقین کرو اور جماعت سے جہالت دور کرو اور اپنے فرائض کی طرف جلد سے جلد توجہ کرو۔میں اللہ تعالیٰ کے حضور تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا صرف خدا کا رحم ہی ہے جو میرے کام بھی آ سکتا ہے اور تمہارے کام بھی آ سکتا ہے۔( الفضل ۷ تا ۹ را پریل ۱۹۶۱ ء ) ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء فى الشكر لِمَنُ احسن الیک بخاری کتاب الادب باب رحمة الناس والبهائم البقرة : ۱۴۹ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۳۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء بغچه : چھوٹی گھڑی الاعراف: ۲۷ ترمذی ابواب اللباس باب ماجاء في الحرير (الخ) بخاری کتاب المناقب باب قول الله تعالى يايها النّاس انا خلقنكم۔