انوارالعلوم (جلد 15) — Page 164
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب پریشان کن خبریں ان کو بھی اپنے عزیزوں کی طرف سے ملتی ہیں جیسے تمہیں ملتی ہیں مگر تم چند منٹ کے فاصلہ پر ہونے کے باوجود کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی راستہ میں تم سے بات کرنا چاہے تو تم اس کو روک دیتے ہو تو پھر ان کی کیفیت کا اندازہ لگا ؤ جو ہزاروں میل کے فاصلہ پر ہوتے ہیں اور جو اپنی خانگی پریشانیوں کا کوئی علاج نہیں کر سکتے۔غرض ہمارے مبلغ جو خدمت دین کے لئے باہر جاتے ہیں ان کا جماعت پر بہت بڑا حق ہے نادان ہے جماعت کا وہ حصہ جو ان کے حقوق کو نہیں سمجھتا۔یورپ کے لوگ ایسے لوگوں کو بیش بہا تنخواہیں دیتے اور ان کیلئے ہر قسم کے آرام و ر ہائش کے سامان مہیا کرتے ہیں۔جب ان کے ڈپلومیٹ یعنی سیاسی حکام اپنے ملکوں میں واپس آتے ہیں تو ملک ان کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔فرانس کے ایمبیسیڈر (AMBASSADOR) کی تنخواہ وزیر اعظم کی تنخواہ سے زیادہ ہوتی ہے مگر جب وہ اپنے ملک میں آتا ہے تو اہل ملک اس کی قربانیوں کی اس قدر تعریف کرتے ہیں اور اس کے اس قدر ممنون ہوتے ہیں کہ گویا وہ فاقے کرتا رہا ہے اور بڑی مشکلات برداشت کرنے کے بعد واپس آیا ہے۔اور دُور جانے کی کیا ضرورت ہے ہندوستان کے وائسرائے کو دیکھو کہ اس کے کھانے اور آرام و آسائش کے اخراجات خود گورنمنٹ برداشت کرتی ہے اور میں ہزار روپیہ ماہوار جیب خرچ کے طور پر اسے ملتے ہیں وہ پانچ سال کا عرصہ ہندوستان میں گزارتا ہے اور اس عرصہ میں بارہ لاکھ روپیہ لے کر چلا جاتا ہے صرف لباس پر اس کو اپنا خرچ کرنا پڑتا ہے یا اگر کسی جگہ کوئی چندہ وغیرہ دینا ہو تو دے دیتا ہے ورنہ باقی تمام اخراجات گورنمنٹ برداشت کرتی ہے لیکن باوجود اس کے جب وہ اپنے ملک کو واپس جاتا ہے تو اس کی قربانیوں کی تعریف میں ملک گونج اُٹھتا ہے اور ہر دل جذ بہ تشکر و امتنان سے معمور ہوتا ہے اور یہ جذبہ ان میں اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ گویا ان کے جذبات کا پیالہ چھلکا کہ چھلکا۔یہی گر ہے قومی ترقی کا جب کسی قوم میں سے کوئی فرد ایک عزم لے کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کو یقین ہوتا ہے کہ میری قوم میری قدر کرے گی۔بیشک دینی خدمت گزاروں کو اس کی قربانیوں کی پرواہ نہیں ہوتی لیکن اگر اس کی قوم اس کی قربانیوں کی پرواہ نہیں کرتی تو یہ اس قوم کی غلطی ہے۔بیشک ایک مؤمن کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہئے اور پھر ایک ایسی قوم کا نمائندہ جو اپنے آپ کو نیک کہتی ہے، وہ تو ان خیالات سے بالکل الگ ہوتا ہے۔اس کو صرف اپنی ہی ذمہ واریوں کا احساس ہوتا ہے مگر اسلام نے جہاں