انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 153

انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو۔۔ایسی بات نہیں دیکھی جو انسان کی روحانیت کے لئے ضروری ہوا اور قرآن کریم نے بیان نہ کی ہو۔یہ نئی زندگی جو قرآن کریم کو بخشی گئی محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے حاصل ہوئی اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب دشمن پر انسان کا غلبہ ہونے لگے تو وہ دوسروں کو تباہ کرنے کے لئے اپنی انتہائی طاقت صرف کرنے لگ جاتا ہے۔جب تک قرآن کریم دشمن کو ہارا ہوا نظر آتا تھا شیطان خوش تھا اور وہ کہتا تھا کہ اس کتاب کا میں نے کیا مقابلہ کرنا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس کا نور دنیا میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے مختلف رنگوں میں حملے کرنے شروع کر دیئے بیرونی بھی اور اندرونی بھی ، کفار کے ذریعہ بھی اور منافقوں کے ذریعہ بھی یہ حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کفر کی فوجیں گلی طور پر میدان مقابلہ میں شکست کھا جائیں گی۔لیکن جب تک کفر میں جان ہے اور اس کے جسم کے اندر سانس چلتی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اطمینان اور چین سے بیٹھ سکے۔پس یہ خیال کر لینا کہ ہماری جماعت کا کام آج یا کل یا پرسوں ختم ہو جائے گا اور ہم اطمینان سے بیٹھ رہیں گے بالکل غلط ہے۔یہ خیال کر لینا کہ فلاں قسم کے حملے اب بالکل نہیں ہوں گے اگر ہوں گے تو اور قسم کے ، بالکل غلط ہے۔وہ ہر رنگ میں حملے کرے گا اور ہر ہتھیار سے اسلام کی فوجوں کو شکست دینے کے لئے میدان میں اترے گا اور ہماری جماعت میں وہی رہ سکے گا جو ان تمام حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہے اور کسی ایک لمحہ کے لئے بھی اطمینان کا سانس نہ لے۔جو شخص اس اصل پر قائم نہیں وہ اگر آج احمدی ہے تو بالکل ممکن ہے کل مرتد ہو جائے کیونکہ ممکن ہی نہیں کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی شرط سے احمدیت میں داخل ہوا ہے تو وہ آخر دم تک احمدی رہ سکے۔یہ الہی سلسلہ ہے اور الہی سلسلوں میں ایسے لوگوں کا قیام بالکل ناممکن ہوا کرتا ہے۔پس وہی لوگ احمدیت پر ثابت قدم رہیں گے جن کے ایمان بغیر کسی شرط کے ہوں۔میں نے جو ابھی ابھی رکوع پڑھا ہے اس میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ الله انا قَلْتُمْ إلى الأرض اے مومنو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اور خدا تعالیٰ کے راستہ میں باہر نکلو تو تم زمین کی طرف بوجھل ہو کر گر جاتے ہو۔اور تمہارے لئے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ارضِيتُم بالحيوة الدُّنْيَا من الأخرة کیا تم اس ورلی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے