انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 151

انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو ۔۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو راضی کر لو گے تقریر فرموده ۳۱۔ جولائی ۱۹۳۸ ء ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ توبہ کی درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ارْضِيْتُمْ بِالْحَيُوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاءُ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا في الآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ - إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبَكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا هُ وَيَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا، وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ ! اس کے بعد فرمایا:۔ میں جماعت کے دوستوں کو ایک لمبے عرصہ سے بتاتا چلا آ رہا ہوں کہ تحریک جدید کوئی نئی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ وہ قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ جاری کی گئی تھی۔ انجیل کے محاورہ کے مطابق یہ ایک پرانی شراب ہے جو نئے برتنوں میں پیش کی جا رہی ہے مگر وہ شراب نہیں جو بد مست کر دے اور انسانی عقل پر پردہ ڈال دے بلکہ یہ وہ شراب ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لا فِيمَا قَولُ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ لَے یعنی اس شراب کے پینے سے نہ تو سر دُکھے گا اور نہ بکواس ہو گی کیونکہ اس کا سر چشمہ وہ الہی نور ہے جو محمد رسول الله علو اللہ ﷺ دنیا میں لائے ایسا نور جو اس سے قبل دنیا کو کبھی نہیں ملا تھا ۔ کیا اتھا۔ کیسی نابینا ہیں الله وہ آنکھیں ، کیسے کور ہیں وہ دل جو قرآن کریم ، تو رات اور دوسری مذہبی کتابیں دیکھتے ہیں اور پھر انہیں قرآن کریم کی خوبی اور اس کی برتری نظر نہیں آتی ۔ وہ حُسن کا مجموعہ ہے، وہ جلوہِ الہی کا