انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 149

انوارالعلوم جلد ۱۵ کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ ء کے متعلق چند خیالات نئی پریشانیاں پیدا کر دے۔انگریزی کی ایک مثل ہے کہ کڑاہی سے نکل کر آگ میں گرا۔سو یہ دیکھ لینا چاہئے کہ جد وجہد کا نتیجہ یہ ہے کہ سب کڑاہی سے نکل آئیں گے یا یہ کہ بعض کڑاہی سے نکل کر باہر آ جائیں گے اور بعض آگ میں گر کر ٹھو نے جائیں گے۔میں اس موقع پر حکومت کو بھی یہ نصیحت کروں گا کہ پبلک کے مفاد کا خیال رکھنا حکومت کا اصل فرض ہے۔اسے چاہئے کہ اپنے زور اور طاقت کو نہ دیکھے بلکہ اس کو دیکھے کہ خدا نے اسے یہ طاقت کیوں دی ہے؟ حاکم اور محکوم سب ایک ہی ملک کے رہنے والے ہیں۔پس اگر وہ اپنی ہی رعایا کا سر کچلنے لگے تو یہ امر حکومت کی طاقت کے بڑھانے کا موجب نہیں ہوسکتا۔جو ہاتھ دوسرے ہاتھ کو کاٹتا ہے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی جڑ پر تبر رکھتا ہے۔یہ اہالیانِ کشمیر ہی ہیں جو ہز ہائی نس مہا راجہ کی عزت کا موجب ہیں۔ان کو اپنے ہمعصروں میں عزت اسی سبب سے ہے کہ ان کی رعایا میں ۳۶ لاکھ افراد ہیں اور اگر وہ افراد ذلیل ہیں تو یقیناً ان کی عزت اتنی بلند نہیں ہو سکتی جتنی بلند اس صورت میں کہ وہ افراد معزز ہوں۔پس ادنی ترین کشمیری ریاست کشمیر کی شوکت کو بڑھانے والا ہے اور وہ حکام جو اس کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس کی عزت پر نہیں بلکہ ریاست کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔اس نازک موقع پر انہیں صبر اور تحمل سے کام لینا چاہئے اور رعایا کے صحیح جذبات سے ہز ہائی نس کو آگاہ رکھنا چاہئے کہ وفاداری کا یہی تقاضا ہے اور خیر خواہی کا یہی مطالبہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر ہائی نس کو اپنی رعایا سے رحم اور انصاف کی اور حکام کو دیانتداری اور ہمدردی کی اور پبلک کو سمجھ اور عقل کی توفیق دے تا کہ کشمیر جو جنت نظیر کہلاتا ہے جنت نہیں تو اپنے ان باغوں جیسا تو دلکش ہو جائے جن کی سیر کرنے کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔وَاخِرُدَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ۔قادیان ضمیمه تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۴۷ تا ۵۱ مطبوعہ دسمبر ۱۹۶۵ء)