انوارالعلوم (جلد 15) — Page 148
انوار العلوم جلد ۱۵ کشمیرا ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ ء کے متعلق چند خیالات اکثریت کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔ہندوستان میں ہی اچھوت اقوام کو دیکھ لو کہ ایک زبر دست اکثریت سے اب وہ اقلیت میں بدل گئی ہیں اور ان کے حالات جس قدر خراب ہیں وہ بھی ظاہر ہیں۔پس میرے نزدیک بغیر ایک ایسے فیصلہ کے جسے پبلک پر ظاہر کر دیا جائے ایسا سمجھوتہ مفید نہیں ہوسکتا کیونکہ نفع یا نقصان تو پبلک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ممکن ہے غیر مسلم لیڈر مسلمانوں کو بعض حق دینے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن ان کی قومیں تسلیم نہ کریں۔پھر ایسے سمجھوتے سے کیا فائدہ۔یا مسلمان لیڈر بعض حق چھوڑنے کا اقرار کر لیں لیکن مسلمان پبلک اس کیلئے تیار نہ ہو اور ملک کی قربانیاں رائیگاں جائیں اور فساد اور بھی بڑھ جائے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں کوئی سمجھوتہ مسلمانوں کیلئے مفید نہیں ہو سکتا جب تک وہ لاکھوں مسلمانوں کی بدحالی اور بیکاری کا علاج تجویز نہ کرتا ہو یعنی ان کی تعداد کے قریب قریب انہیں ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں حق نہ دلاتا ہو۔جو سمجھو تہ اس امر کو مد نظر نہیں رکھتا وہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ امن پیدا کر سکتا ہے۔عوام لیڈروں کے لئے قربانی کرنے میں بے شک دلیر ہوتے ہیں لیکن جب ساری جنگ پیٹ کیلئے ہو اور پیٹ پھر بھی خالی کا خالی رہے تو عوام الناس زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے اور ان کے دلوں میں لیڈروں کے خلاف جذبہ نفرت پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے فتنہ کا سدِ باب کر دینا شروع میں ہی مفید ہوتا ہے۔یہ میرا مختصر مشورہ مسلمانان کشمیر کو ہے وہ اپنے مصالح کو خوب سمجھتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔میں تو اب کشمیر کمیٹی کا پریذیڈنٹ نہیں ہوں اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آیا کشمیر کمیٹی کی رائے اس معاملہ میں کیا ہو گی لیکن سابق تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مشورہ دینا مناسب سمجھا۔عقلمند وہی ہے جو پہلے سے انجام دیکھ لے۔میرے سامنے سمجھوتہ نہیں نہ صحیح معلوم ہے کہ کن حالات میں اور کن سے وہ سمجھوتہ کیا گیا ہے۔میں تو اخبارات میں شائع شدہ حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ اس کا سمجھوتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں ہوا ہے اور اس کے مطابق اب دونوں قو میں مشترکہ قربانی پر تیار ہو رہی ہیں۔پس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ قربانی ایک مقدس ھے ہے اور بہت بڑی ذمہ واریاں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ وہ کس امر کے لئے قربانی کرنے لگے ہیں اور یہ کہ وہ اس امر کو نباہنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں ؟ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ موجودہ سمجھوتہ بجائے پریشانیوں کے کم کرنے کے