انوارالعلوم (جلد 15) — Page 146
انوار العلوم جلد ۱۵ کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات اس کی زمینوں کی ترقی کے لئے کوشش کی جاتی ہے نہ اسے حریت ضمیر حاصل ہے نہ اس کی اس آبادی کے اچھے گزارہ کیلئے کوئی صورت ہے جس کا گزارہ زمین پر نہیں بلکہ مزدوری اور صنعت وحرفت پر ہے اور نہ اس کی تجارتوں اور کارخانوں کی ترقی کے لئے ضرورت کے مطابق جد و جہد ہو رہی ہے ۔ نہ اسے اپنے حق ۔ کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں حصہ دیا جا رہا ہے اور ان لوگوں میں سے جن کے ذریعہ سے حکومت تاجروں، ٹھیکہ داروں وَ غَيْرَ هُمَا کو نفع پہنچایا کرتی ہے اور نہ مجالس قانون ساز میں ان کی آواز کو سنا جاتا ہے ۔ یہ مطالبات مسلمانان ریاست کشمیر و جموں کے ہیں اور یہی مطالبات قریباً ہر افتادہ قوم کے ہوتے ہیں ۔ یہ امر ظاہر ہے کہ وہی سکیم مسلمانانِ کشمیر کے لئے مفید ہوسکتی ہے جو اوپر کی اغراض کو پورا کرے اور دوسری کوئی سکیم انہیں نفع نہیں دے سکتی۔ پس میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نیا اتحاد جو مسلمانوں کے ایک طبقہ کا بعض دوسری اقوام سے ہوا ہے، کیا اس غرض کو پورا کرتا ہے؟ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں اور مجالسِ آئینی میں تناسب کے لحاظ سے حصہ نہ ملنے کی وجہ سے پہنچ رہا ہے اور یہ بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ان ملازمتوں پر سوائے چند ایک بڑے افسروں کے ریاست ہی کے باشندے قابض ہیں جو غیر مسلم اقوام سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی حال ٹھیکوں کا ہے ۔ وہ بھی اکثر مقام میں غیر مسلم اصحاب کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی طرح مجالسِ آئینی میں بھی مسلمانوں کا حق زیادہ تر ریاست کشمیر کے غیر مسلم باشندوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ ان حالات میں لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان اقوام نے اپنے حاصل کردہ منافع مسلمانوں کے حق میں چھوڑ دینے کا فیصلہ کر دیا ہے ۔ اگر نہیں تو یہ سمجھو تہ کس کام آئے گا۔ اگر اس تمام جد و جہد کا نتیجہ یہ نکلنا ہے کہ مہا راجہ صاحب بہادر کے ہاتھ سے اختیار نکل کر رعایا کے پاس اس صورت میں آ جاتے ہیں کہ نہایت قلیل اقلیت نے نصف یا نصف کے قریب نمائندگی پر قابض رہنا ہے اور اسی طرح ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں بھی اسے یہی حصہ ملنا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پندرہ فیصدی باشندے پچاس فی صدی آمد پر قابض رہیں اور پچاسی فی صدی باشندے بھی پچاس فیصدی آمد پر قابض رہیں ۔ گویا ایک جماعت کے ہر فرد پر فی صدی آمد خرچ ہوا اور دوسری قوم کے ہر فرد پر نے فی صدی آمد خرچ ہو یا دوسرے لفظوں میں ہمیشہ کیلئے چھ مسلمان اتنا حصہ لیں جتنا کہ ایک غیر مسلم حصہ لے۔ یہ تقسیم تو بالبداہت باطل ہے ۔