انوارالعلوم (جلد 15) — Page 142
انوار العلوم جلد ۱۵ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ایک دو سال ہوئے میں نے خواب میں دیکھا میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور ۱۱ ۱۲ سال کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں۔گہنی پر ٹیک لگا کر ہاتھ کھڑا کیا ہوا ہے اور اس پر سر رکھا ہوا ہے۔ان کے دائیں بائیں عزیزم چوہدری عبداللہ خان صاحب اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیٹھے ہیں ان کی عمریں آٹھ آٹھ نو نو سال کے بچوں کی سی معلوم ہوتی ہیں۔تینوں کے منہ میری طرف ہیں اور تینوں مجھ سے باتیں کر رہے ہیں اور بہت محبت سے میری باتیں سن رہے ہیں اور اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں اور جس طرح گھر میں فراغت کے وقت ماں باپ اپنے بچوں سے باتیں کرتے ہیں اسی طرح میں ان سے باتیں کرتا ہوں۔شاید اس کی تعبیر بھی مرحومہ کی وفات ہی تھی کہ الہی قانون کے مطابق ایک قسم کی ابوت یا مامتا جگہ خالی کرتی ہے تو دوسری قسم کی ابوت یا مامتا اس کی جگہ لے لیتی ہے۔مرحومہ کے والد بھی احمدی تھے اور ان کے بھائی چوہدری عبداللہ خان صاحب دا تا زید کا والے ایک نہایت پُر جوش احمدی ہیں اور اپنے علاقہ کے امیر جماعت ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے وقت سے مجھ سے اخلاص رکھتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ اظہا را خلاص میں پیش پیش رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ کو اپنے قرب میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو انکی دعاؤں کی برکات سے محروم نہ کرے اور وہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے حق میں پوری ہوتی رہیں۔یہ سب موتیں ہمارے لئے ایک سبق ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو توجہ دلاتی ہیں کہ اپنی زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی پیدا کر یں۔حتی کہ ان میں سے کوئی فوت نہ ہو جس کی جگہ لینے والا دوسرا موجود نہ ہو بلکہ جس ایک کی جگہ لینے والے کئی موجود نہ ہوں۔آخر ہم سب نے مرنا ہے پھر اس قلیل زندگی کو خدا کے دین کیلئے قربان اور اس کی پیاری یاد میں کیوں صرف نہ کریں۔اللہ ہی ہمارا متکفل ہو۔آمین والسلام خاکسار ل الرحمن: ۲۷ البقرة: ۱۵۷ مرزا محمود احمد ۱۷ رمئی ۱۹۳۸ ء کیمپ ناصر آباد۔سندھ ( الفضل ۲۲ رمئی ۱۹۳۸ء)