انوارالعلوم (جلد 15) — Page 133
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ ہی نقصان کیوں نہ پہنچے ، ہم حق بات ہی کہیں گے۔تو یہ جانی قربانی بھی ہوگی اور جذبات کی قربانی بھی ہوگی اور مال کی قربانی بھی ہوگی۔مگر باوجود اس کے نہ اس میں لڑائی کرنی پڑے گی نہ حکومت سے جھگڑا ہوگا نہ کسی اور قوم سے بکھیڑا۔جو لوگ اسے بڑی قربانی سمجھتے ہوں میں انہیں کہتا ہوں اس بڑی قربانی کو خدا کیلئے پیش کرو اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کونسی جانی قربانی ہے یا مالی قربانی ہے میں انہیں کہتا ہوں تم سر دست اس چھوٹی قربانی کو خدا کیلئے پیش کرو پھر دیکھو اس سے کیسے شاندار نتائج نکلتے ہیں اور کس طرح احمدیت کے دشمن خواہ عام افراد ہوں خواہ حکومت کے بعض افسر، جماعت احمدیہ کو بد نام کرنے والی کوششوں میں ناکام رہتے ہیں۔یقیناً اس طرح تم احمدیت کے گردا خلاقی نیکنامی کی ایک ایسی فصیل تیار کر دو گے جس کو تو ڑ نا کسی دشمن کی طاقت میں نہ ہو گا۔کیونکہ اخلاقی قلعے وہ قلعے ہیں جنہیں حکومت کی تو ہیں بھی توڑنے سے قاصر رہا کرتی ہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ ان مصائب کے زمانہ میں کیا یہ قربانی نہیں کہ آپ میں سے ہر ایک اپنے اخراجات کو کم کر کے سلسلہ کی امداد کرے تاکہ سلسلہ کے بار کو بھی کم کیا جائے اور مخالفوں کے پرو پیگنڈا کو بھی بے اثر بنایا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نذیر اِن نَفَعَتِ الذكرى وعظ ونصیحت کرتا رہ کیونکہ وعظ و نصیحت پہلے بھی فائدہ دے چکی ہیں۔بظاہر یہ قربانی چھوٹی معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت یہ قربانی چھوٹی نہیں کیونکہ جماعت کا ایک معتد بہ حصہ مالی قربانیوں میں یا پیچھے ہے یا مستقل مزاج نہیں اور ان کی کمزوریوں کے لمحات سلسلہ کے بار کو اس قدر زیادہ کر دیتے ہیں کہ باقی روپیہ کے خرچ کا بھی وہ فائدہ نہیں پہنچتا جو پہنچنا چاہئے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم سب کچھ قربان کرنا چاہتے ہیں میں انہیں کہتا ہوں آؤ سلسلہ کے لئے مستقل اور کبھی نہ رکنے والی مالی قربانی کرو اس سے بھی دشمن کے حملے کمزور پڑ جائیں گے کیونکہ سلسلہ کی مالی پریشانیاں بہت سی تبلیغی جد وجہد کو روک دیتی ہیں۔یہ مالی قربانی بھی در حقیقت جانی قربانی ہی ہے کیونکہ جس حد تک سلسلہ اب ان کا مطالبہ کر رہا ہے وہ احمدیوں کے کھانے پینے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اس لئے یہ مالی قربانی بھی اب جسمانی قربانی بن گئی ہے۔مگر صرف اس حد تک جانی قربانی کافی نہیں ہو سکتی۔سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات بعض لوگوں سے اس قربانی کا بھی مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ پورا وقت دین کی خدمت کیلئے لگائیں تا کہ جو کام پوری توجہ چاہتے ہیں وہ ادھورے نہ رہ جائیں۔ہمارا سلسلہ الہی سلسلہ ہے اسے ہر قسم کی لیاقت رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے اور سلسلہ کے کام اس قدر وسیع ہو چکے ہیں کہ ان کے سنبھالنے کے لئے ایک بڑی جماعت ہمیں درکار ہے۔میں