انوارالعلوم (جلد 15) — Page 132
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ ہیں ؟ دشمن ہم پر جھوٹ باندھتا ہے اور بعض حکام کو بھی وہ اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لیکن ایسے ظالموں کو تم گئی طور پر کس طرح دُور کر سکتے ہو۔اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس پر ظلم ہوئے اور بہت ہوئے مگر اس کی ترقی کا زمانہ بھی تو ایسی مثالوں سے خالی نہیں۔ایک جابر بادشاہ پر بھی تو بعض دفعہ لوگ ظلم کر سکتے ہیں ایک فاتح جرنیل بھی تو کبھی کبھار مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے پس ہمیں اس امر کے خلاف شکوہ نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتا ہمیں تو اس ماحول کے خلاف شکوہ ہے جو ہماری تبلیغ کے راستہ میں روک بن گیا ہے۔اس ٹہرت کے خلاف شکوہ ہے جو غلط پراپیگنڈا ( PROPAGANDA) کے ذریعہ سے جماعت کے خلاف لوگوں میں پیدا کر دی گئی ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ اس شہرت کو دُور کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کے لوگ احمدیت کے اردگرد ایک ایسی مضبوط دیوار بنادیں کہ دشمن کا پراپیگنڈا اس کو تو ڑ کر آگے نہ جاسکے اور یہ دیوار سچائی اور دیانت کی دیوار کے سوا اور کونسی ہو سکتی ہے؟ جو شخص اپنے تجربہ سے احمدیت کے اخلاق کا قائل ہو جائے وہ دوسرے کی بات کو کب تسلیم کرے گا ؟ مجھے ایک دوست نے سنایا کہ ان سے ایک بڑے افسر نے کہا کہ میرے ساتھ جس قدر احمدیوں نے کام کیا ہے ان کو دیکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ احمدی نہایت دیانت دار ہوتے ہیں۔وہ دوست کہتے ہیں کہ اس افسر پر آپ کے متعلق بُرا اثر ڈالا گیا تھا اس لئے میں نے جواب دیا کہ کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص نے ہمیں دیانت اور سچائی سکھائی ہے وہ خود بددیانت ہوگا ؟ اور اس کا اس افسر پر گہرا اثر پڑا۔یہ مثال ہر شہر، ہر ضلع ، ہر گاؤں اور ہر قصبہ بلکہ ہر محلہ میں دُہرائی جاسکتی ہے بشرطیکہ احمدی اپنے اندر سچائی اور دیانت پیدا کریں۔بے شک دُنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں دیکھی خوبی کو کھوٹے پیسے کی طرح پھینک دیتے ہیں لیکن کا نوں سُنے عیب کو سچے موتی کی طرح دامن میں باندھ لیتے ہیں مگر یہ لوگ کم ہیں۔زیادہ تر دنیا تجربہ سے فائدہ اٹھاتی ہے۔کم سے کم اس تجربہ سے جو اُن کے ذاتی فائدہ کے خلاف نہ پڑتا ہو۔ان لوگوں کو متا ثر کرنا ہر احمدی کے قبضہ میں ہے بشرطیکہ وہ اپنی جان ، اپنے جذبات اور مال کی قربانی کرے۔آخر لوگ سچ کو کیوں چھوڑتے ہیں؟ اپنے جسم کو تکلیف سے بچانے کیلئے یا اپنے مال کو بچانے یا بڑھانے کیلئے۔اگر احمدی یہ ارادہ کر لیں کہ خواہ ہمارے جسم کو کس قدر ہی تکلیف کیوں نہ ہو، ہم سچ بولیں گے اور ہمارے جذبات کو کس قدر ہی ٹھیں کیوں نہ لگے، ہم راستی کو نہ چھوڑیں گے اور ہمارے مال کو کتنا