انوارالعلوم (جلد 15) — Page 130
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ سفروں کے اختیار کرنے اور دشوار گزار گھاٹیوں میں سے گزرنے کے مکمل نہیں ہوسکتی اور وہ بھی جسم کی قربانی چاہتے ہیں۔پھر تبلیغ مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وحشی قبائل تک اسلام کا پیغام نہ پہنچا دیا جائے اور ان لوگوں میں رہ کر مبلغ کی جان ایک دن بھی محفوظ نہیں قرار دی جاسکتی اور یہ بھی جان کی قربانی ہے۔وغیرہ وغیرہ تو ہرگز ان کا قدم سُست نہ ہوتا اور وہ اس ذلت کو نہ دیکھتے جو آج انہیں دیکھنی نصیب ہوئی ہے۔بے شک تبلیغ کے اگر یہ معنی لئے جائیں کہ مہینہ میں اگر کسی دن فرصت ہوئی تو کسی دوست کو ملنے چلے گئے اور اسے تبلیغ بھی کر دی تو اس میں جانی قربانی کا بہت کم نشان ملتا ہے لیکن جس تبلیغ کا اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے وہ تو ایک زبردست قربانی ہے اور اس کے زبر دست قربانی ہونے کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی جماعت سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ بڑے جوش سے کہہ دیتے ہیں کہ ہاں ہم قربانیاں کریں گے لیکن اس قربانی کے پیش کرنے کا بہت کم دوستوں کو موقع ملتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قربانی ویسی آسان نہیں جیسی کہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔حق یہ ہے کہ انسانی نفس ضمیر کی ملامت سے سخت تکلیف اُٹھاتا ہے اور اس سے بچنے کا اس نے یہ ذریعہ ایجاد کیا ہے کہ وہ نیکی کی تعریفیں بدلتا رہتا ہے اور جس قربانی کا اس کے لئے موقع ہوتا ہے وہ اسے ادنیٰ قرار دے کر اس سے اس طرح پیچھا چھڑا لیتا ہے کہ یہ تو ادنی قربانی ہے اسے کیا پیش کرنا ہے اور بزعم خود ایک اعلیٰ قربانی کے پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے جس کے پیش کرنے کا اس وقت موقع نہیں ہوتا اور اس طرح وہ اپنی نظروں میں اور اپنے ہم چشموں کی نظروں میں اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام خود انسان کے فائدہ کے لئے ہیں۔پس ایسے موقع پر جھوٹی عزت حاصل کرنا خود کشی سے کم نہیں ہوتا کیونکہ لفظی تعریف حقیقی نقصان کا قائم مقام نہیں ہو سکتی۔اس تمہید کے بعد میں دوستوں سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا انہوں نے غور بھی کیا ہے کہ احمدیت کس قسم کی قربانیوں کا ان سے مطالبہ کرتی ہے۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جب احمدیت ان سے جان کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ جاؤ اور جا کر کسی سے جنگ کرو اور نہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ کسی کو مار کر پھانسی چڑھ جاؤ کیونکہ یہ دونوں باتیں احمدیت کی تعلیم کے خلاف ہیں۔امر اول اس لئے جائز نہیں کہ یہ امرحکومت سے تعلق رکھتا ہے اور حکومت اس وقت احمد یوں کے ہاتھ میں نہیں اور امر دوم اس لئے جائز نہیں کہ اسلام ہمیں قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔پس جب یہ دونوں صورتیں نا جائز ہیں تو یقیناً احمدیت کا جانی قربانی کا مطالبہ