انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 129

انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ طاقتور ہتھیار سے محروم کر دیا گیا ہے۔جس طرح آج بہت سے لوگ عدم تشد د کی خوبیوں کے معترف ہورہے ہیں ایک دن آئے گا کہ دنیا اس امر کو بھی تسلیم کرے گی کہ صرف عدم تشد دکافی نہیں بلکہ اخلاقی حفاظت کیلئے اور دنیا میں امن قائم رکھنے کیلئے قانون کی اطاعت بھی ضروری ہے کیونکہ ایک حکومت کا قانون توڑنے کے بعد کسی اور حکومت کے قانون کا احترام باقی نہیں رہ سکتا ، اور اس حربہ کی قیمت بہت ہی گراں دینی پڑتی ہے۔دوسرے شبہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے زیادہ دھو کے کا خیال اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ جو قانون نہ توڑے اس کیلئے قربانی کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔سب کے سب انبیاء ہمارے عقیدہ کے مطابق قانون کا احترام کرنے والے تھے اور لڑائی اور فساد سے اجتناب کرنے والے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے دشمنوں نے خواہ وہ قوموں کی حیثیت میں ہوں خواہ حکومتوں کی حیثیت میں ، انہیں دکھ دیئے اور ان کے اچھے ارادوں کو بدی کی طرف منسوب کیا اور ان کی امن کی کوششوں کو فساد کی انگیخت قرار دیا۔علاوہ اس کے جو حصہ جد وجہد کا جماعت کی طرف سے ہوتا ہے وہ بھی خواہ کس قدر ہی پُر امن ذرائع پر مشتمل کیوں نہ ہو ہر قسم کی قربانی چاہتا ہے۔جانی قربانی بھی کرنی پڑتی ہے اور مالی بھی اور وطنی بھی۔جانی قربانی صرف اسی کا تو نام نہیں کہ انسان لڑائی میں جان دے دے۔اگر جانی قربانی اسی کا نام ہو تو انبیاء کو اس قربانی سے محروم قرار دینا پڑے گا کیونکہ لڑائی میں مارا جانے والا تو شاید ایک نبی بھی نہیں گزرا اور جن کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں ان کے دشمنوں نے مروا دیا وہ نبی بھی ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔پس جانی قربانی کے معنی لڑائی کے ہرگز نہیں۔بلکہ میرا یہ یقین ہے اور میں اس یقین پر پختگی سے قائم ہوں کہ جو قو میں جانی قربانی کو لڑائی کے ساتھ مخصوص کر لیتی ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں کیونکہ جب کبھی جانی قربانی کے وہ مواقع بہم نہیں پہنچتے جو ان کے ذہن میں ہوتے ہیں وہ قوم سست ہو جاتی ہے اور آخر اپنے مقام کو کھو بیٹھتی ہے۔مسلمانوں میں جہاد کے عقیدہ نے یہی خطرناک نتیجہ پیدا کیا ہے چونکہ جانی قربانی کا مفہوم گزشتہ چند صدیوں سے ان کے نزدیک صرف تلوار کی جنگ کے ساتھ وابستہ ہو کر رہ گیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جانی قربانیاں جو تبلیغ کے ذریعہ سے کرنی پڑتی ہیں یا تو انہیں حقیر نظر آنے لگیں یا بالکل ہی ان کی نظر سے پوشیدہ ہوگئیں اور وہ اپنے مقام کو محفوظ نہ رکھ سکے اور تنزل کا شکار ہو گئے اگر وہ یہ سمجھتے کہ تبلیغ بغیر علم کے نہیں ہو سکتی اور وہ جسم کی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔تبلیغ بغیر دور دراز