انوارالعلوم (جلد 15) — Page 128
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ میں نے بار بار جماعت کو بتایا ہے کہ قربانی کے بارہ میں ہمارا معاملہ دوسری تمام اقوام سے جُدا گانہ ہے دوسری اقوام قانون شکنی کو جائز سمجھتی ہیں لیکن ہمارا مذہب ہمیں قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے اور اس بارہ میں نہ کسی احمدی کو منفردا کسی تبدیلی کا اختیار ہے نہ جماعت احمدیہ کو متفقہ طور پر اور نہ کسی خلیفہ کو کیونکہ یہ شریعت کا حکم ہے۔پس یہ راستہ قربانیوں کا تو ہمارے لئے گلی طور پر مسدود ہے۔ہم نے اس معاملہ میں کانگرس سے شدید مخالفت کی ہے اور اب بھی جو قوم قانون شکنی پر آمادہ ہو ہم اس کی مخالفت کریں گے کیونکہ احمدیت کی یہ تعلیم امتیازی حیثیت رکھتی ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب اس کے سب پہلوؤں پر اچھی طرح غور کیا گیا تو ایک وقت آئے گا کہ دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ گاندھی جی کی عدم تشدد کی پالیسی سے یہ اطاعت قانون اور عدم تشدد کی مشتر کہ تعلیم بہت زیادہ مؤثر ہے لیکن اس کی اہمیت ابھی تک بعض احمدی بھی نہیں سمجھے اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ قانون شکنی بھی نہ ہو اور عدم تشدد کی پالیسی پر بھی عمل کیا جائے تو پھر حکومت کو راہ راست پر لانے کا کون سا ذریعہ ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر فرض کرو یہ ذریعہ کامیابی کا ہے بھی تو پھر اس کے ساتھ جو قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے اس کا کونسا موقع ہے۔جب ہم نے قانون شکنی بھی نہ کی اور عدم تشدد پر بھی عمل کیا تو کوئی ہم سے لڑے گا ہی کیوں؟ اور ہمارے لئے قربانی کا موقع کونسا پیدا ہو گا۔پہلے شبہ کے متعلق تو میں اس وقت صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بہت سے مسائل بظاہر سادہ معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کے پیچھے بہت بڑی طبعی اور اخلاقی قوتیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔پس ہمیں چاہئے کہ اس مسئلہ کی کلیات پر ہی نظر نہ رکھیں بلکہ اس کی جزئیات اور تفصیلات پر بھی غور کریں تا ہمیں معلوم ہو سکے کہ اس کے پیچھے کس قدرا خلاقی اور نفسیاتی طاقتیں جمع ہیں۔جب گاندھی جی نے عدم تشدد کی تعلیم دینی شروع کی تھی تو خود ان کے ساتھی اس پر ہنستے تھے اور دل میں کہتے تھے کہ صرف ان کی شخصیت سے فائدہ اٹھا لو باقی ان کی تعلیم تو صرف سادھوؤں والی تعلیم ہے لیکن آج بہت سے کانگرسی ایسے ہیں جو حقیقتاً اس تعلیم کو اچھا سمجھتے ہیں۔حتی کہ جن لوگوں نے ان سے اختلاف کر کے تشدد کی پالیسی پر عمل کیا تھا اور جرائم کر کے جیل خانوں میں چلے گئے تھے وہ بھی اپنی غلطی کا اقرار کر کے جیلوں سے واپس آ رہے ہیں۔اس وقت ہماری ہی ایک جماعت تھی جس نے گاندھی جی سے اس لئے اختلاف کیا تھا کہ ان کی عدم تشدد کی پالیسی اتنی مکمل نہیں جس قدر ہونی چاہئے تھی ورنہ باقی سب لوگ اس پالیسی کو اس لئے فضول کہتے تھے کہ اس سے ملک کو ایک