انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 127

انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ ( تحریر فرموده مئی ۱۹۳۸ء) میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ضلع گورداسپور کے بعض حکام کا رویہ جماعت کے بارہ میں نہایت افسوسناک ہے اور وہ متواتر دشمنانِ احمدیت کی پیٹھ ٹھونکتے رہتے ہیں اور افسوس ہے کہ ماتحت حکام کے وقار کو قائم رکھنے کے خیال سے ان کے بالا افسر بھی ان کی ان حرکات پر انہیں تنبیہہ نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہے کہ بعض حکام نہایت نا مناسب طور پر سلسلہ کے خلاف اظہار رائے کرتے ہیں جسے مخالفین سلسلہ ایسے لوگوں میں پھیلا کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ غیر جانبدار لوگوں کی رائے ہے اور تبلیغ کا دائرہ محدود ہوتا جاتا ہے۔آخر میں میں نے جماعت سے خواہش کی تھی کہ انہیں اس صورتِ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اس بارہ میں مجھے مختلف افراد جماعت اور انجمنوں کی طرف سے خطوط آئے ہیں کہ وہ ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں۔جن جن جماعتوں یا افراد کی طرف سے ایسی اطلاع اب تک نہیں ملی ان سے بھی اسی جواب کی امید کی جاتی ہے اور یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ کوئی مخلص بھی سلسلہ کے لئے قربانی کرنے سے گریز کرے گا لیکن سوال یہ ہے کہ آیا جماعت قربانیوں کی حقیقت کو سمجھتی بھی ہے یا نہیں۔قربانی کی حقیقت کو سمجھے بغیر ہر شخص جس میں جوش پایا جاتا ہے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن جب حقیقت معلوم ہوتی ہے یا مل کا وقت آتا ہے تو اکثر لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔کئی تو کہتے ہیں کہ یہ قربانی حد سے زیادہ ہے اور کئی کہتے ہیں کہ یہ قربانی حد سے کم ہے اور اسی قسم کے بہانوں سے وہ اپنا پیچھا چھڑا لیتے ہیں۔