انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xiv

انوار العلوم جلد ۱۵ شائع ہوئی۔تعارف کتب حضور نے اس تقریر میں نہایت لطیف پیرا یہ میں احباب جماعت کو اس عظیم تحریک میں حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا کہ تحریک جدید وہی قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جاری کی گئی تھی اور اس کے وہی اغراض و مقاصد ہیں جن کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا اور قرآن کریم کا نزول ہوا اور پھر اس زمانہ میں تجدید دین کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اور جماعت احمدیہ قائم ہوئی لہذا اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں احمدیت کی ترقی اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے۔اس خطاب کے آخر پر آپ نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔میں کہتا ہوں کہ اگر تم نے دیانتداری سے احمدیت کو قبول کیا ہے، اگر تم یقین رکھتے ہو کہ سلسلہ احمد یہ سچا ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدا تعالیٰ کی پیروی ہے اور مسیح موعود کی پیروی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے تو اے مرد اور عور تو ! تم تحریک جدید کے اغراض اور مقاصد میں میرے ساتھ تعاون کرو اور انصار اللہ بن جاؤ۔مجھے تم سے کوئی غرض نہیں۔اگر تم میرے ان مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر راضی کر لو گے اور اگر تم ان مطالبات پر عمل نہیں کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر ناراض کر لو گے“۔(۷) احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب ۱۱/ نومبر ۱۹۳۸ء کو جامعہ احمدیہ، مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور طلباء کی طرف سے مدرسہ احمدیہ کے صحن میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب درد، محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی ولایت سے کامیاب مراجعت کی خوشی میں ایک دعوت چائے کا اہتمام کیا گیا جس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بھی شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے اپنے خطاب میں مبلغین کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے احباب جماعت کو مبلغین کی عزت واحترم کرنے کے حوالے سے ان کے فرائض کی طرف انہیں توجہ دلائی۔اس