انوارالعلوم (جلد 15) — Page 99
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی امام ڈھال کے طور پر ہوتا ہے اور تمہیں اس کے پیچھے ہو کر دشمن سے لڑائی کرنی چاہئے۔پس جب تک میں نے اعلان نہیں کیا تھا، لوگ بڑی حد تک آزاد سمجھے جا سکتے تھے لیکن اب وہی شخص جماعت کا فرد کہلا سکتا ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِهِ امام کے پیچھے ہو کر اسلام کے لئے جنگ کرنے کے واسطے تیار ہو جائے۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور احیائے سنت و شریعت کے لئے سرگرم عمل ہو جائے۔جب تک میں نے اعلان نہ کیا تھا ، لوگوں کے لئے کوئی گناہ نہیں تھا مگر اب جبکہ امام اعلان کرتا ہے کہ اِحیائے سنت و شریعت کا وقت آ گیا ہے کسی کو پیچھے رہنا جائز نہیں ہوگا اور اگر اب سستی ہوئی تو کبھی بھی کچھ نہ ہو گا۔آج گو صحابہ کی تعداد ہم میں قلیل رہ گئی ہے مگر پھر بھی یہ کام صحابہ کی زندگی میں ہی ہو سکتا ہے اور اگر صحابہ نہ رہے تو پھر یا درکھو یہ کام بھی نہیں ہو گا۔تمدن کے متعلق اسلامی تعلیم دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔(۱) الخُلُقُ (۱) اخلاق حسنہ وِعَاءُ الدِّينِ ۹۴ که خلق دین کا برتن ہے۔اب تم خود ہی سمجھ لو کبھی برتن کے بغیر بھی دودھ رہا ہے؟ یہ تو ہو سکتا ہے کہ برتن ہومگر دودھ نہ ہولیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دودھ بغیر برتن کے باقی رہے۔پس اخلاق حسنہ دین کا برتن ہیں۔اگر کسی کے پاس یہ برتن نہیں اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس ایمان کا دودھ ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں (۲) إِنَّمَا بُعِثْتُ لِا تَمِّمَ مَكَارِمَ الْاخْلَاقِ۔۹۵ کہ میں اس لئے بھیجا گیا ہوں تا اخلاق فاضلہ کو کامل کر کے قائم کروں۔پھر معاملات کے متعلق فرماتے ہیں۔اَشْرِقُ الْإِيْمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ 191 (۲) معاملات و اشرف الإسْلامِ أَنْ يُسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ وَ کہ اعلیٰ درجہ کا ایمان یہ ہے کہ لوگ تیرے ہاتھ سے امن میں رہیں اور کسی کو تجھ سے دکھ نہ پہنچے اور اعلیٰ درجہ کا اسلام یہ ہے کہ لوگ تجھ سے محفوظ رہیں یعنی تو نہ زبان سے ان سے لڑے اور نہ ہاتھ سے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے۔