انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xiii

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب (۵) کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات حضرت مصلح موعود کے بارہ میں ” پیشگوئی مصلح موعود میں آپ کی ایک یہ صفت بھی بیان کی گئی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا علاوہ دیگر بے شمار شہادتوں کے اس مضمون وو نے پیشگوئی کے ان الہامی الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ۔ اہلِ اس مضمون میں حضور نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک طبقہ کے درمیان جو غیر فطری اور نا عاقبت اندیشانہ اتحاد پر مبنی معاہدہ ہوا اُس پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے جس میں شمیر اور حکومت کو دونوں کی فلا فلاح و بہبود پر مبنی بے حد مفید اور ضروری مشورے دیئے۔ اس معاہدہ کی بنیادی خامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے اور لاکھوں اہلِ کشمیر کے حقوق کو پامالی سے بچانے کی غرض سے فرمایا کہ: ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کوئی سمجھوتہ مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ہو سکتا جب تک وہ لاکھوں مسلمانوں کی بد حالی اور بے کاری کا علاج تجویز نہ کرتا ہو ۔۔۔۔ جو سمجھوتہ ہوسکتا اس امر کو مد نظر نہیں رکھتا وہ نہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ امن پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ:۔ د پس میرے نزدیک بغیر ایک ایسے فیصلہ کے جسے پبلک پر ظاہر کر دیا جائے ایسا سمجھوتہ مفید نہیں ہوسکتا کیونکہ نفع یا نقصان تو پبلک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ ممکن ہے غیر مسلم لیڈر مسلمانوں کو بعض حق دینے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن اُن کی قو میں تسلیم نہ کریں پھر ایسے سمجھوتے سے کیا فائدہ؟“ (1) اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو راضی کر لو گے حضرت مصلح موعود نے یہ تقریر ۳۱ ۱ جولائی ۱۹۳۸ ء کو قادیان میں تحریک جدید کے مطالبات کے سلسلہ میں ارشاد فرمائی جو بعد میں ۱۶ رجون ۱۹۵۹ ء کو پہلی دفعہ روزنامہ الفضل قادیان میں