انوارالعلوم (جلد 15) — Page 91
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی آیتوں کو منسوخ قرار دیتے تھے، بعض چھ سو آیتوں کو منسوخ سمجھتے تھے اور بعض اس سے کم آیتیں منسوخ بتلاتے تھے۔یہاں تک کہ تین آیتوں کے نسخ کے قائل تو وہ بھی تھے جو نسخ کے جواز کو خطرناک خیال کرتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہ سب لغوا اور بیہودہ باتیں ہیں سارا قرآن ہی قابل عمل ہے۔اور پھر جن آیتوں پر اعتراض کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ منسوخ ہیں ، ان کے آپ نے ایسے عجیب و غریب معارف بیان فرمائے کہ یوں معلوم ہونے لگا کہ اصل آیتیں قرآن کی تو تھیں ہی یہی اور ایک ایسا مخفی خزانہ ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکال کر باہر رکھ دیا کہ دنیا حیران ہو گئی کہ اب تک یہ امور ہماری نظروں سے کیوں پوشیدہ تھے لیکن اُس وقت جب آپ نے یہ باتیں کہیں آپ پر کفر کے فتوے لگائے گئے آپ کو بُرا بھلا کہا گیا اور آپ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔حالانکہ یہ ایسا لطیف نکتہ تھا کہ اگر دنیا کی کسی عظمند قوم کے سامنے اسے پیش کیا جاتا تو اس پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو جاتی مگر آج جاؤ اور دیکھو کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔تمہیں نظر آئے گا کہ سو میں سے ننانوے مولوی کہہ رہا ہے کہ قرآن کی کوئی آیت منسوخ نہیں اور وہ انہی آیتوں کو جن کو پہلے منسوخ کہا کرتے تھے، قابلِ عمل قرار دیتے اور ان کے وہی معنی کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئے۔غرض عقائد کے بارہ میں تو ہم نے مخالفین کو ہر غلبہ احمدیت اور عمل کا میدان میدان میں شکست دی ہے لیکن جہاں عقائد کے میدان میں ہم نے مخالفوں پر عظیم الشان فتح حاصل کی ہے وہاں عمل کے میدان میں ہمیں یہ بات نظر نہیں آتی اور ہم کم سے کم دنیا کے سامنے یہ امر دعوی سے پیش نہیں کر سکتے کہ اس میدان میں بھی ہم نے اپنے مخالفوں کو شکست دے دی ہے اور بجائے کسی اور نظام کے اسلامی نظام قائم کر دیا ہے۔کامل تنظیم اور عملی تکمیل اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے عملی تحمیل بغیر ایسی کامل تنظیم کے نہیں ہو سکتی جس میں انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو مگر اس وقت تک ہماری جماعت صرف عقائد کی درستی، شخصی جد و جہد اور چندہ جمع کرنے کا کام کر سکی ہے حالانکہ شخصی جد و جہد کبھی نظام کامل کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ :۔(۱) اکثر لوگ شریعت کے غوامض سے واقف نہیں ہوتے اس لئے ان کی جدو جہد ناقص ہوتی ہے اور وہ شریعت کو دنیا میں قائم نہیں کر سکتے کیونکہ کئی مسئلے انہیں معلوم ہی نہیں ہوتے جس کا