انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 90

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی حمد ن اس کی تہذیب اس کے علوم اس کے اقتصاد اس کی سیاست اس کی معاشرت اور اس کے اخلاق کو قائم کیا جائے ۔ اس تبدیلی کا کچھ حصہ شخصی ہے جیسے نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا اور کچھ قومی ۔ شخصی حصہ تو وعظ اور شخصی کوشش کو چاہتا ہے یعنی لوگوں کو کہا جائے کہ وہ نمازیں پڑھیں، وہ روزے رکھیں ، وہ حج کریں ، وہ صدقہ و خیرات دیں اور پھر جو لوگ اس وعظ ونصیحت سے متاثر ہوں وہ اپنے اپنے طور پر نیکی کے کاموں میں مشغول ہو جائیں لیکن قومی حصہ ایک زبردست نظام چاہتا ہے مثلاً اگر ہم خود نمازیں پڑھنے والے ہوں تو یہ ضروری نہیں کہ باقی بھی نمازیں پڑھنے والے ہوں ۔ اگر اور کوئی بھی شخص نماز نہیں پڑھتا تو ہماری اپنی نماز ہی ہمارے لئے کافی ہوگی ۔ لیکن بعض احکام ایسے ہیں جو ایک نظام چاہتے ہیں اور ہم انہیں اس وقت تک بجا نہیں لا سکتے جب تک دوسرے بھی وہی کام نہ کریں ۔ جیسے نماز ہے یہ اکیلے تو ہم پڑھ سکتے ہیں لیکن با جماعت نماز اس وقت تک نہیں پڑھ سکتے جب تک دوسرا شخص ہمارے ساتھ نہ ہو۔ پس نماز با جماعت ایک نظام چاہتی ہے ۔ یعنی ضروری ہے کہ ایک امام ہو اور اس کے پیچھے ایک یا ایک سے زائد مقتدی ہوں ۔ بیسیوں اور احکام ایسے ہیں جو ایک زبردست نظام چاہتے ہیں ایسا نظام کہ جس میں انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ عقائد کے میدان میں جماعت احمد یہ کی فتح اس وقت ہماری جماعت ہر و ثابت ہے عقائد کے میدان میں عظیم الشان فتح حاصل کر چکی ہے اور ہماری اس فتح کا دشمن کو بھی اقرار ہے۔ چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب کہا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں تو تمام ہو ۔ غیر احمدی یک زباں ہو کر پکار اٹھے کہ یہ کفر ہے یہ کفر ہے ۔ چنانچہ اسی بناء پر انہوں نے آپ پر گھر کے فتوے لگائے اور یہ کہا کہ آپ مسیح کی جنگ کرتے ہیں ۔ مگر آج چلے جاؤ دنیا میں، تعلیم یافتہ لوگوں میں سے بہت سے ایسے نظر آئیں گے جو انہیں اب مردہ ہی یقین کرتے ہیں اور اکثر ایسے نظر آئیں گے جو گومنہ سے اقرار نہ کریں مگر یہ ضرور کہیں گے کہ مسیح زندہ ہو یا مر گیا ہو، ہمیں اُس سے کیا تعلق ہے؟ یہ کونسی ایسی اہم بات ہے کہ ہم اس کے پیچھے پڑیں؟ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ دشمن بھی تسلیم کرتا ہے کہ اب اس حربہ سے وہ ہمارے مقابلہ میں نہیں لڑ سکتا۔ پھر دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو کفر کا فتوی لگا اس میں کفر کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی گئی تھی کہ آپ قرآن مجید میں ناسخ و منسوخ کے قائل نہیں ۔ گزشتہ علماء سے بعض تو گیارہ سو