انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 78

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی پر کامل روشنی ڈالی ہے ۔ اسی طرح ذاتِ الہی ، صفاتِ الہیہ، دعا ، قضاء وقدر ، حشر و نشر، جنت و دوزخ ، حیات جنت وغیرہ ان سب امور کیلئے اس نے مصطلحات تجویز کی ہیں اور پھر ان کی مکمل تشریح فرما کر انسانی دماغ کو ایسی روشنی بخشی ہے کہ وہ ان مسائل کو اسی طرح اپنے ذہن میں مستحضر کر سکتا ہے جس طرح کہ مادی علوم و امور کو ۔ اور اس طرح علم کو پرا گندہ ہونے اور دماغ کو پریشان ہونے سے اس نے بچا لیا ہے۔ نویں فضیلت جو قرآن کریم کو حاصل ہے یہ ہے کہ گواس رآنی تعلیم کی جامعیت و ملک میں سیاست اور عباد اور حمدان سے پہلے موسوی ساله سلہ کو مذہب میں شامل کر لیا گیا تھا۔ یعنی موسیٰ نے لوگوں سے کہا تھا کہ تمہیں میری حکومت، مذہب میں بھی اور تمدن میں بھی اور اخلاق میں بھی اور سیاست میں بھی ماننی پڑے گی مگر رسول کریم علی کے زمانہ میں اسلام کے ذریعہ سے اس کو اور زیادہ بڑھا دیا گیا اور اسلام نے عبادت و روحانیت کی تعلیم کے علاوہ سیاست اور تمدن کی تعلیم بھی دی اور اخلاقیات اور اقتصادیات اور تعلیم اور معاشرت اور ثقافت کے مسائل کو بھی شریعت میں شامل کر کے انسانی زندگی کو ایسا کامل کر دیا کہ اس کے عمل کا کوئی شعبہ صحیح ہدایت اور کامل نگرانی سے باہر نہیں رہ گیا۔ دسویں فضیلت قرآن کریم کی تعلیم کو یہ حاصل ہے کی یہ مذہب کو مشاہدہ پر قائم کیا گیا ہوتا ہ پر قائم کیا گیا دسویں فضیلت قرآن کی نے خدا کے قول اور خدا کے فعل کو ایک کہ اس نے دوسرے کے لئے محمد اور متوازی قرار دے کر تجربہ اور مشاہدہ کے میدان میں مذہب کو لا کھڑا کیا ہے حالانکہ اس سے پہلے اسے صرف مافوق الطبعیات قرار دیا جاتا تھا۔ چنانچہ قرآن نے کہا کہ دنیا خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا کلام اور یہ ناممکن ہے کہ خدا کے قول اور اس کے فعل میں تضاد ہو۔ پس جب بھی تمہیں کوئی مشکل در پیش ہو خدا کے قول اور خدا کے فعل کو مطابق کرو۔ جہاں یہ مطابق ہو جائیں تم سمجھ لو کہ وہ بات صحیح ہے اور جہاں ان میں اختلاف رہے تم سمجھ لو کہ اب تک تم پر حقیقت منکشف نہیں ہوئی ۔ اس نکتہ سے مذہب اور سائنس میں جو لڑائی تھی وہ جاتی رہی کیونکہ سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا کلام اور یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول و فعل میں تطابق نہ ہو اور اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے یا اس کے قول کے سمجھنے میں ٹھو کر کھائی ہے یا اس کے فعل پر غور کرنے میں ہمیں غلطی لگی ہے۔ ان میں سے جس چیز کا نقص بھی ڈور کر دیا جائے گا دونوں میں تطابق پیدا ہو جائے گا ۔ اس نکتہ عظیمہ کی وجہ سے مذہب فلسفہ کے