انوارالعلوم (جلد 15) — Page 45
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی صرف یہی پیغام لے کر آیا تھا کہ تم عائلی اور تمدنی زندگی اختیار کرو۔تمہارا ایک حاکم ہونا چاہئے تمہیں اُس کی اطاعت کرنی چاہئے ، تم اپنے مقدمات اُس کے پاس لے جاؤ اُس سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کراؤ اور ہر بات قانون کے ماتحت کرو اور وہ پہلا انسان جس نے یہ قانون قائم کیا اس کا نام آدم تھا۔اور جب ہم اس نقطہ نگاہ سے آدم کو دیکھیں تو وہ تمام اعتراضات حل ہو جاتے ہیں جو اس سے پہلے آدم کے واقعہ پر ہو ا کرتے تھے۔مثلاً یہ جو آتا ہے کہ فرشتوں نے کہا۔آتَجْعَلُ فِيْهَا من يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدّماء کہ کیا تو اب زمین میں ایک ایسا شخص کھڑا کرنے والا ہے جو فساد کرے گا اور لوگوں کا خون بہائے گا ؟ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کو کیونکر پتہ لگا کہ آدم کے ذریعہ سے خون بہیں گے جبکہ آدم ابھی پیدا بھی نہ ہو ا تھا؟ اس کے کئی جواب دیئے جاتے تھے مثلاً یہ کہ چونکہ حاکم فساد کو دُور کرنے کے لئے ہوتا ہے فرشتوں نے سمجھ لیا کہ ضرور کوئی فساد کرنے والے بھی ہونگے اس وجہ سے انہوں نے یہ سوال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا کہ کیا فسادی لوگ بھی دنیا میں پیدا کئے جائیں گے کہ جن کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے آدم کی پیدائش کی ضرورت ہے؟ بیشک خلیفہ کے لفظ سے یہ استنباط ہوسکتا ہے کہ کوئی مخلوق فساد کرنے والی بھی ہوگی لیکن اگر یہ آدم نسلِ انسانی کا بھی پہلا فرد تھا تو پھر بھی یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ فساد تو کبھی آئندہ زمانہ میں آدم کی اولاد نے کرنا تھا پھر آدم کو خلیفہ کس غرض اور کس کام کے لئے بنایا گیا تھا ؟ اور اگر خلیفہ کا وجود بغیر فساد کے بھی ہو سکتا ہے تو پھر فرشتوں کے اعتراض کی بنیاد کیا تھی؟ غرض اس تشریح سے جو گو غیر معقول نہیں اس سوال کا جواب نہیں آتا کہ فرشتوں کو اس سوال کا خیال کیوں پیدا ہوا اور یہ معنی اس آیت کے معانی میں سے ایک معنی تو کہلا سکتے ہیں مگر مکمل معنی نہیں کہلا سکتے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ فرشتوں نے کہا جو قولی تو نے آدم میں رکھے ہیں ان کے ماتحت ہمیں مشبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ضرور فساد کرے گا اور لوگوں کے خون بہائے گا حالانکہ آدم اگر خدا تعالیٰ کا نبی تھا تو اس نے وہی کچھ کرنا تھا جو خدا تعالیٰ اسے حکم دیتا اس کے خلاف عمل وہ کر ہی نہیں سکتا تھا۔اس آیت کے معنی کرتے ہوئے یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ بادی النظر میں اس سے یہ استنباط