انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 35

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی سے ایک حصہ کو زندہ کر کے اُس بُھلائی ہوئی تعلیم کی محبت اُس کے دل میں ڈال دے اور اس کے ذریعہ سے پھر اسی تعلیم کی حکومت دُنیا میں قائم کر دے۔یقینا یہ نہایت ہی مشکل کام ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت پر دلالت کرتا ہے اور اسی قدرت کے مزید اظہار کیلئے آیت کے آخر میں یہ مزید الفاظ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں کہ الم تعلم ان الله له ملك السموت والارض کیا تمہیں علم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ایسا انقلاب نہایت آسانی سے پیدا کر سکتا ہے۔غرض اولوالعزم انبیاء ایک قیامت ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے پُرانی نسل مٹا دی جاتی اور ایک نئی نسل قائم کی جاتی ہے۔اور چونکہ وہ نیا نظام قائم کرتے ہیں ان کے زمانہ کو مذہبی اصطلاح میں یوم قیامت بھی کہتے ہیں۔ان کے زمانہ میں یوم قیامت کی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔یعنی ایک دفعہ سب اہلِ زمانہ پر موت اور پھر دوسری دفعہ احیاء۔انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی پہلے تو دنیا پر موت طاری ہو جاتی ہے اور قرب الہی کے وہ تمام دروازے جو پہلے اس کے لئے کھلے تھے بند کر دیے جاتے ہیں اور پھر اس کے زمانہ کے نبی کے ذریعہ سے نئے دروازے قُرب الہی کے کھولے جاتے ہیں۔گویا پہلی عمارت کو وہ گرا دیتے ہیں اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔خواہ پہلی عمارت منسوخ هده شریعت کی ہو یا لوگوں کی خود ساختہ عمارت ہو جسے محفوظ شریعت کو متروک قرار دے کر الساعة کے معنی b لوگوں نے خود کھڑا کر لیا ہو۔اس زمانہ کو قرآنی اصطلاح میں الساعة بھی کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الحيوةُ الدُّنْيَاوَ يَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا، وَ الَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاللهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ " یعنی جو لوگ کافر ہیں انہیں ورلی زندگی کے سامان بڑے خوبصورت نظر آتے ہیں۔اور وہ ان لوگوں سے جو مؤمن ہیں ٹھیٹھے کرتے ہیں۔والذين اتقوا ويَومَ القِيمة ، حالانکہ قیامت کے دن مؤمن ان پر غالب ہوں گے۔و فَوْقَهُم يوم القيمة کا نظارہ اس قیامت کے دن کو بھی ہوگا جو مرنے کے بعد b آنے والا ہے جبکہ کفار دوزخ میں جائیں گے اور مؤمن جنت میں مگر اس قیامت کے دن سے لوگ نصیحت نہیں حاصل کر سکتے اور اس آیت میں اس امر کو صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا