انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 605

انوار العلوم جلد ۱۵ چاند میرا چاند بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ چاند میرا چاند ( تحریر فرمودہ جولائی ۱۹۴۰ ء ) سمندر کے کنارے چاند کی سیر نہایت پُر لطف ہوتی ہے۔اس سفر کراچی میں ایک دن ہم رات کو کلفٹن کی سیر کیلئے گئے میری چھوٹی بیوی صدیقہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ ، میری تینوں لڑکیاں ناصرہ بیگم سلمها اللہ تعالی ، امتہ الرشید بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ ، امتہ العزیز سلمہا اللہ تعالیٰ ، امتہ الودود مرحومہ اور عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تھے۔رات کے گیارہ بجے چاند سمندر کی لہروں میں ہلتا ہوا بہت ہی بھلا معلوم دیتا تھا اور اوپر آسمان پر وہ اور بھی اچھا معلوم دیتا تھا۔جوں جوں ریت کے ہموار کنارہ پر ہم پھرتے تھے لُطف بڑھتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آتی تھی۔تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ اور صدیقہ بیگم جن دونوں کی طبیعت خراب تھی تھک کر ایک طرف ان چٹائیوں پر بیٹھ گئیں جو ہم ساتھ لے گئے تھے۔ان کے ساتھ عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالیٰ بھی جا کھڑے ہوئے اور پھر عزیزہ امتہ العزیز سلمہا اللہ تعالیٰ بھی وہاں چلی گئی۔اب صرف میں ، عزیزہ امتہ الرشید بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ اور عزیزہ امتہ الودود مرحومہ پانی کے کنارے پر کھڑے رہ گئے۔میری نظر ایک بار پھر آسمان کی طرف اُٹھی اور میں نے چاند کو دیکھا جو رات کی تاریکی میں عجیب انداز سے اپنی چمک دکھا رہا تھا اس وقت قریباً پچاس سال پہلے کی ایک رات میری آنکھوں میں پھر گئی جب ایک عارف اللہ محبوب ربانی نے چاند کو دیکھ کر ایک سرد آہ کھینچی تھی اور پھر اس کی یاد میں دوسرے دن دنیا کو یہ پیغام سنایا تھا۔چاند کو گل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا پہلے تو تھوڑی دیر میں یہ شعر پڑھتا رہا پھر میں نے چاند کو مخاطب کر کے اسی جمالِ یار والے