انوارالعلوم (جلد 15) — Page 559
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کے ایک لفظ کے خلاف بھی اگر میرا عقیدہ ہو تو میں ترک کرنے کیلئے تیار ہوں۔یہ مقصد نہیں تھا کہ واقع میں آپ کا کوئی عقیدہ خلاف قرآن ہے۔اسی طرح حضرت ابو بکڑ کے اس قول کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ سے گفر بواح صادر ہو سکتا تھا بلکہ یہ معنی ہیں کہ صداقت ہر حالت میں قابلِ اتباع ہوتی ہے اور اُس کیلئے زید یا بکر کا کوئی سوال نہیں ہوتا اگر میں بھی کسی ایسے امر کا ارتکاب کروں تو تم میری اطاعت سے انکار کر دو۔یہ مطلب نہیں تھا کہ آپ کبھی خدا اور رسول کے حکم کے خلاف بھی کسی فعل کا ارتکاب کر سکتے تھے اور نہ اطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أولى الآمْرِ مِنْكُم اور آیت استخلاف کی موجودگی میں یہ معنی ہو سکتے ہیں۔آیت استخلاف اور خلافت ثانیہ آب میں مختصراً آیت استخلاف کے ماتحت احمد یہ خلافت کے ذکر کو چھوڑ کر صرف اپنی خلافت کو لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے وعد الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ في الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم میں یہ بتایا ہے کہ جب تک قوم کی اکثریت میں ایمان اور عملِ صالح رہتا ہے اُن میں خلافت کا نظام بھی موجود رہتا ہے۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ (۱) کیا جماعت اب تک ایمان اور عملِ صالح رکھتی ہے یعنی کیا ہماری جماعت کی شہرت نیک ہے اور کیا ہماری جماعت کے افراد کی اکثریت عملِ صالح رکھتی ہے؟ اس کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ بات ہر شخص پر ظاہر ہے کہ جماعت کی شہرت نیک ہے اور جماعت کی اکثریت عمل صالح پر قائم ہے۔پس جب ایمان اور عملِ صالح کی یہ حالت ہے تو خلافت کا وعدہ ضرور پورا ہونا چاہئے کیونکہ وقدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وعملوا الصلحت کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے اس بات کا وعدہ کیا ہے اور وعدہ ضرور پورا ہوا کرتا ہے۔(۲) دوسری بات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَباهِمْ یعنی جس طرح پہلے خلفاء ہوئے اسی طرح اُمتِ محمدیہ میں خلفاء ہونگے۔مطلب یہ کہ جس طرح پہلے خلفاء الہی طاقت سے بنے اور کوئی اُن کی خلافت کا مقابلہ نہ کر سکا اسی طرح اب ہوگا۔سو میری خلافت کے ذریعہ یہ علامت بھی پوری ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے وقت صرف بیرونی اعداء کا خوف تھا۔مگر میری خلافت کے وقت