انوارالعلوم (جلد 15) — Page 548
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ایک لطیف نکتہ اب ایک لطیف نکتہ بھی سن لو۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا عجیب بات بیان کی ہے۔خلافت کے انعام کا وارث اس قوم کو بتایا ہے جو (۱) ایمان رکھتی ہو یعنی اس کے ارادے نیک ہوں۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عمله ے کہ مؤمن کے عمل محدود ہوتے ہیں مگر اس کے ارادے بہت وسیع ہوتے ہیں۔اور وہ کہتا ہے کہ میں یوں کروں گا اور ووں کروں گا۔گویا مومن کے ارادے بہت نیک ہوتے ہیں۔(۲) دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عملوا الشلحت کے مصداق ہوتے ہیں۔یعنی صالح ہوتے ہیں مگر فرماتا ہے جب وہ خلافت کا انکار کرتے ہیں تو فاسق ہو جاتے ہیں۔فاسق کے معنی ہیں جو حلقہ اطاعت سے نکل جائے اور نبی کی معیت سے محروم ہو جائے۔پس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ نیک ارادے رکھنے والوں اور صالح لوگوں میں خلافت آتی ہے۔مگر جو اس سے منکر ہو جائیں تو باوجود نیک ارادے رکھنے اور صالح ہونے کے وہ اس فعل کی وجہ سے نبی اس سے مفکر کی معیت سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔اب آیت کے ان الفاظ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس رویا کے مقابل پر رکھو جو آپ نے مولوی محمد علی صاحب کے متعلق دیکھا اور جس میں آپ ان سے فرماتے ہیں:۔آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ کے تو معلوم ہوا کہ یہ بعینہ وہی بات ہے جو الّذینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اور مَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الفسقون کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ایمان رکھنے اور عمل صالح کرنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ان میں خلافت قائم کرے گا۔مگر جو شخص اس نعمت کا انکار کر دے گا وہ نبی کی معیت سے محروم کر دیا جائے گا۔اس رؤیا میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیٹھا یا نہیں بیٹھا۔مگر قرآنی الفاظ بتاتے ہیں کہ ایسے شخص کو پاس بیٹھنے کی توفیق نہیں ملی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيُورُجِعُوْنَ ٤٨۔دوسری آیت جو خلافت کے خلافت راشدہ کی تائید میں دوسری آیت ثبوت میں قرآن کریم میں۔بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و اذ ابْتَلَى ابْرُهم رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ