انوارالعلوم (جلد 15) — Page 494
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده العُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوْبُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَّ هَذِهِ مَوْعِظَةً مُوَدِعٍ فَمَا ذَا تُعَهْدُ إِلَيْنَا۔فَقَالَ أَوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْداً حَبْشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَّعِشُ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدُيْنَ الْمَهْدِيِّينَ فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِدِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ؟ الله عرباض بن ساریہ کہتے ہیں۔ایک دن رسول کریم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور جب نماز سے فارغ ہو چکے تو آپ نے ہمیں ایک وعظ کیا۔وہ وعظ ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ اس سے ہمارے آنسو بہنے لگ گئے اور دل کانپنے لگے۔اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! معلوم ہوتا ہے یہ الوداعی وعظ ہے۔آپ ہمیں کوئی وصیت کر دیں۔آپ نے فرمایا۔اُوصِيكُمُ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْداً حَبَشِيًّا۔میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اطاعت اور فرماں برداری کو اپنا شیوہ بنا ؤ خواہ کوئی حبشی غلام ہی تم پر حکمران کیوں نہ ہو۔جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ لوگوں میں بہت بڑا اختلاف دیکھیں گے پس ایسے وقت میں میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدُيْنَ الْمَهْدِيِّينَ تم میری سنت اور میرے بعد میں آنے والے خلفاء الراشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔تَمَسَّكُوا بِهَا تم اس سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا وَعَضُوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ اور جس طرح کسی چیز کو دانتوں سے پکڑ لیا جاتا ہے اسی طرح اس سنت سے چھٹے رہنا اور کبھی اس راستے کو نہ چھوڑ نا جو میرا ہے یا میرے خلفائے راشدین کا ہوگا۔وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ اور تم نی نی باتوں سے بچتے رہنا فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ کیونکہ ہر وہ نئی بات جو میری اور خلفاء راشدین کی سنت کے خلاف ہوگی وہ بدعت ہوگی اور بدعت ضلالت ہوا کرتی ہے۔ان دونوں قسم کے حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اولى الأمر دو قسم کے تسلیم کئے ہیں۔ایک دُنیوی اور ایک دینی اور اسلامی۔دُنیوی امراء کے متعلق اطاعت کا حکم ہے مگر ساتھ ہی کفر بواح کا جواز بھی رکھا ہے اور اس صورت میں بشرطیکہ برہان ہو قیاس نہ ہوان گفر یہ امور میں ان کی اطاعت سے باہر جانے کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ حکم دیا ہے۔گو بعض اسلامی علماء نے جیسے حضرت محی الدین ابن عربی ہیں اس بارہ میں بھی اتنی احتیاط کی ہے کہ وہ کہتے ہیں ایسی صورت میں بھی صرف علیحدگی کا اعلان کرنا جائز ہے بغاوت کرنا پھر بھی جائز