انوارالعلوم (جلد 15) — Page 465
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ لوگوں سے بیعت لیں۔اس پر باغ میں تمام لوگوں کا اجتماع ہوا اور اس میں حضرت خلیفہ اول نے ایک تقریر کی اور فرمایا کہ مجھے امامت کی کوئی خواہش نہیں میں چاہتا ہوں کہ کسی اور کی بیعت کر لی جائے۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں پہلے میرا نام لیا پھر ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کا نام لیا۔پھر ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا نام لیا اسی طرح بعض اور دوستوں کے نام لئے لیکن ہم سب لوگوں نے متفقہ طور پر یہی عرض کیا کہ اس منصب خلافت کے اہل آپ ہی ہیں چنانچہ سب لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔ابھی آپ کی بیعت پر پندرہ بیس دن ہی گزرے تھے خلیفہ وقت کے اختیارات کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب مجھے ملے اور کہنے لگے کہ میاں صاحب! کبھی آپ نے اس بات پر غور بھی کیا ہے کہ ہمارے سلسلہ کا نظام کیسے چلے گا؟ میں نے کہا اس پر اب اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت جو کر لی ہے۔وہ کہنے لگے وہ تو ہوئی پیری مریدی۔سوال یہ ہے کہ سلسلہ کا نظام کس طرح چلے گا ؟ میں نے کہا میرے نزدیک تو اب یہ بات غور کرنے کے قابل ہی نہیں کیونکہ جب ہم نے ایک شخص کی بیعت کر لی ہے تو وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح سلسلہ کا نظام قائم کرنا چاہئے ہمیں اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے! اس پر وہ خاموش تو ہو گئے مگر کہنے لگے یہ بات غور کے قابل ہے۔حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں کچھ دنوں بعد جب جماعت کے دوستوں میں اس قسم کے سوالات میر محمد اسحاق صاحب کے چند سوالات کا چرچا ہونے لگا کہ خلیفہ کے کیا اختیارات ہیں اور آیا وہ حاکم ہے یا صدرانجمن احمد یہ حاکم ہے تو میر محمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں اس مسئلہ کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔حضرت خلیفہ اول نے وہ سوالات باہر جماعتوں میں بھجوا دیئے اور ایک خاص تاریخ مقرر کی کہ اس دن مختلف جماعتوں کے نمائندے جمع ہو جائیں تا کہ سب سے مشورہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جا سکے مگر مجھے ابھی تک ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔یہاں تک کہ مجھے ایک رؤیا ہوا۔میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے جس کا ایک حصہ ایک رویا مکمل ہے اور دوسرا نامکمل۔نامکمل حصے پر اگر چہ بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی