انوارالعلوم (جلد 15) — Page 424
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده پر میں نے نوٹ لکھنے شروع کئے تو لکھتے لکھتے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اگر اس دلیل کو اسی طرح اوپر کی طرف چلایا جائے تو اس کی زد رسول کریم ﷺ پر بھی پڑتی ہے اور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی کا یہ حصہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے آپ نے وقتی ضروریات کے ماتحت اختیار کیا۔غرض پہلے میں اس نتیجہ پر پہنچا بعد میں جب میں نے اس کی کتاب کو پڑھا تو میں نے دیکھا کہ بعینہ اس نے یہی استنباط کیا ہوا ہے اور گو مسلمانوں کے خوف سے اس نے اس کو کھول کر بیان نہیں کیا بلکہ شکر کی گولی میں زہر دینے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی اس کا مطلب خوب واضح ہے کہ قضاء وغیرہ کا انتظام اس وقت ثابت نہیں اور نہ دوسری ضروریات کا جو حکومت کیلئے ضروری ہیں مثلاً میزانیہ وغیرہ۔پس معلوم ہوا کہ اُس وقت جو کچھ کیا جاتا تھا صرف وقتی مصالح کے ماتحت کیا جاتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ خلافت کے انکار خلافت کے انکار کا ایک خطرناک نتیجہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت مذہبی نہیں تھی اور خواہ اس خیال کو مسلمانوں کی مخالفت کے ڈر سے کیسے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے صرف خلفاء کے نظام سلطنت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرا نا پڑتا بلکہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اس حصہ کے متعلق بھی جو امور سلطنت کے انصرام کے ساتھ تعلق رکھتا تھا کہنا پڑتا ہے کہ وہ محض ایک دُنیوی کام تھا جسے وقتی ضرورتوں کے ماتحت آپ نے اختیار کیا ور نہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کومستی کرتے ہوئے نظامی حصہ آپ نے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کی طرف سے اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ اپنی سہولت کے لئے جیسا نظام کوئی چاہے پسند کرے۔علی بن عبد الرزاق نے اس بات پر بھی بحث کی ہے چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اگر رسول کریم محلے کو صیح معنوں میں حکومت حاصل ہوتی تو آپ ہر جگہ جج مقرر کرتے مگر آپ نے ہر جگہ حج مقرر نہیں کئے اسی طرح با قاعدہ میزانیہ وغیرہ بنائے جاتے مگر یہ چیزیں بھی آپ کے عہد میں ثابت نہیں۔اسی طرح اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اگر امور سلطنت کے انصرام میں کوئی حصہ لیا ہے تو وہ وقتی ضرورتوں کے ماتحت لیا ہے جیسے گھر میں کرسی نہیں ہوتی تو انسان فرش پر ہی بیٹھ جاتا ہے۔اسی طرح اس وقت چونکہ کوئی حکومت نہیں تھی آپ نے عارضی انتظام قائم کرنے کیلئے بعض قوانین صادر کر دیئے۔پس آپ کا یہ کام ایک ڈ نیوی کام تھا اس سے مذہبی رنگ میں کوئی سند نہیں لی جاسکتی۔غرض اس اصل کو تسلیم کر کے خلفاء کے نظام حکومت کو ہی مذہبی حیثیت سے نہیں گرانا پڑتا