انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 11

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی روحانی زندگی بخشتار ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اور اس کے متعلق یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندرا اور حضرت بُدھ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔پس مخالفین کا یہ اعتراض کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پاس سے بنا لیا ہے صرف قرآنی علوم سے ان کی بے خبری کا ثبوت ہے ورنہ اسی آیت میں جو اس وقت میں نے پڑھی ہے اور اور کئی آیات میں یہ اصل موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَامَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء کہ جو بے فائدہ چیز ہوگی وہ ضائع ہو جائے گی۔واما مَا يَنْفَعُ النّاس فَيَمْكُتُ في الأرضِ مگر جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہو وہ قائم رہے گی اور کون کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنا نفع مند چیز ہے۔افتراء یقیناً انسان کو ہلاک کرنے والا فعل ہے اور اس کا دنیا میں جڑھ پکڑ جانا تو الگ رہا اللہ تعالیٰ تو مفتری کو عذاب دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔پس اگر کوئی تحریک دنیا میں کامیاب طور پر قائم رہتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ یقیناً دنیا کیلئے کوئی ایسا پیغام لاتی ہے جو مفید ہے اور یہ خیال کہ ایک کذاب اور مفتری بھی ایسا پیغام لاسکتا ہے جو لوگوں کیلئے دینی رنگ میں مفید ہو اور دنیا میں قائم رہے کسی احمق کے ذہن میں ہی آئے تو آئے کوئی دانا ایسا خیال نہیں کر سکتا۔دوسرا اصل جو دنیا میں رائج ہے اور جو اصلاح کا ذریعہ صلح یا جنگ ہے۔رہی اور دنیوی دونوں قسم کی تحریکوں کی مذہبی کامیابی کیلئے ضروری ہوتا ہے یہ ہے کہ اصلاح کے ہمیشہ دوذ رائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ۔یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے۔یا تو یہ ہوتا ہے کہ وہ باتیں دنیا میں پھیلا دی جاتی ہیں لوگ اُن پر بخشیں کرتے ہیں اور آخر لوگ انہیں اپنا لیتے ہیں اور اپنے عقائد میں شامل کر لیتے ہیں۔جیسے دنیا میں پہلے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ زمین چپٹی ہے بلکہ اب تک بھی بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو زمین کو گول نہیں سمجھتے بلکہ چپٹی سمجھتے ہیں۔چنانچہ میں ایک دفعہ لا ہور گیا اور اسلامیہ کالج کے ہال میں میں نے لیکچر دینا شروع کیا تو ایک شخص میرے لیکچر میں ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔سوال جواب کا بھی موقع دیا جائے گا یا نہیں ؟ پریذیڈنٹ نے پوچھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ وہ کہنے لگا: میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے اور مجھ