انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 298

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) دکھائی دیا۔پھر میں نے اپنی نظر او پر اُٹھائی تو اس کمرہ کے دروازہ پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا اور اس پر لکھا تھا۔اوليكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَيَهُدُهُمُ اقْتَدِهُ یہ لوگ بڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ تھے۔اُنہوں نے کوئی بات ہمارے حکم کے خلاف نہیں کی۔پس جس بات کے متعلق بھی تمہیں یقینی طور پر پتہ لگ جائے کہ وہ ان انبیاء میں سے کسی نے کی ہے اُس پر بغیر کسی خدشہ کے فوراً عمل کر لیا کرو کیونکہ وہ ضرور اچھی ہوگی۔(۲) جنتر منتر دوسری سیر میں نے جنتر منتر کی کی۔جنتر منتر ایک رصد گاہ کا نام ہے جہاں اجرام فلکی کے نقشے بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح بعض بلند جگہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے ستاروں اور اُن کی گردشوں کا اچھی طرح معائنہ کیا جاسکتا ہے۔یہ رصد گا ہیں تین کام دیتی تھیں۔اول علم ہیئت اور حساب اوقات کی صحیح معلومات حاصل کرنا۔دوم اپنے خیال کے مطابق علم غیب دریافت کرنا۔سوم ستاروں کے بداثرات سے بچنے کی کوشش کرنا۔یہ نہایت خوشنما جگہ ہے اور لوگ اسے ایک پُرانے زمانہ کی یادگا رسمجھ کر دیکھنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ بادشاہ کے وقت میں مہا راجہ جے پور نے اسے تعمیر کرایا تھا۔میں نے کہا اس چھوٹے سے نقشہ کی تو لوگ قدر کرتے ہیں اور اس کے بنانے والے کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن کبھی بھی وہ اُس حقیقی جنتر منتر کی طرف نگاہ نہیں اُٹھاتے جس کا یہ نقشہ ہے اور نہ اس کے بنانے والے کی صنعت کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں۔مٹی اور پتھر کی اگر کوئی دوا مینٹیں لگا دے تو کہ اٹھتے ہیں واہ واہ ! اُس نے کسقدر عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ کتنی عظیم الشان طاقتوں کا مالک خدا ہے جس نے اس جنتر منتر سے کروڑوں درجے بڑا ایک اور جنتر منتر بنایا اور نہ صرف اس نے اتنا بڑا نقشہ بنایا بلکہ اس نقشہ کا دیکھنا بھی ممکن کر دیا کیونکہ قرآن کریم میں اصل نقشہ کی سیر کا بھی امکان پیدا کیا گیا ہے میں نے اس غرض کے لئے سورہ انعام کو دیکھا تو وہاں یہ لکھا ہوا پایا۔وكذلك تري ابراهيم ملكوت السموت والأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوْقِنتن ۵۸ کہ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو زمین و آسمان کے اسرار کھول کر دکھائے تا کہ وہ علم میں ترقی کرے اور ہماری قدرتوں