انوارالعلوم (جلد 15) — Page 294
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ حکم لائے کہ : - ہارون کو مقدس لباس پہنا اور اُس کو چُپڑ۔اور اُسے مقدس کرتا کہ کا ہن کا کام میری خدمت میں کرے اور اُس کے بیٹوں کو نز دیک لا اور اُن کو گرتے پہنا اور اُن کو چُپڑ۔جیسے اُن کے باپ کو چپڑا ہے تا کہ وہ کا ہن کا کام میری خدمت میں کریں اور یہ مساحت اُن کے لئے اور اُن کے قرنوں کیلئے ہمیشہ کی کہانت کا باعث ہو گی اور موسیٰ نے ایسا کیا سب جو خداوند نے اس کو حکم کیا تھا عمل میں لایا‘۔۵۵ گویا اس مشرکانہ فعل کے بعد جو بروئے بائبل حضرت ہارون علیہ السلام سے سرزد ہو ا تھا خدا تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام پر بجائے کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے فیصلہ یہ کیا کہ ہارون کو مقدس لباس پہنایا جائے اور نہ صرف اس کی عزت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کی عزت کرنا بھی بنی اسرائیل پر فرض قرار دیا جائے اور عبادت گاہوں اور مساجد کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے۔کیا ایک مشر کا نہ فعل کا یہی نتیجہ ہوا کرتا ہے؟ اور کیا اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ فعل سرزد ہوا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سے یہی سلوک کیا جاتا ؟ بائبل کی یہ اندرونی گواہی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے شرک کی تائید نہیں کی تھی بلکہ شرک کی مخالفت کی تھی اور چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کی تائید کی اس لئے خدا بھی اُن پر خوش ہوا اور اُس نے کہا کہ چونکہ ہارون نے میری عبادت دنیا میں قائم کی ہے اس لئے آئندہ تمام عبادت گاہوں کا انتظام ہارون اور اس کی اولاد کے سپرد کیا جائے۔پس بائبل کی یہ اندرونی گواہی اس الزام کی تردید کر رہی ہے جو اُس نے اسی کتاب میں حضرت ہارون علیہ السلام پر لگایا ہے اور قرآن کریم کے بیان کی جو اس کے نزول کے ساڑھے اُنیس سو سال بعد یا اس کی تحریر کے سترہ اٹھارہ سو برس بعد نازل ہوا ہے تصدیق کرتی ہے۔پھر میں نے آثارِ قدیمہ کا ہر قوم کی طرف خدا تعالیٰ نے رحمت کا ہاتھ بڑھایا ہے تیسرا کمرہ دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ تمام قوموں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اُن کے سوا صداقت سے کوئی آشنا نہیں۔ہر قوم دوسری قوم کے متعلق یہ خیال کرتی ہے کہ اُس میں جھوٹ ، فریب اور دغا بازی کے سوا اور کچھ نہیں۔میں نے ہندوؤں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے سب معرفت اور ہدایت ہمارے بزرگوں کی معرفت دنیا کو دیدی ہے، اب اس کے بعد کسی اور الہام کی