انوارالعلوم (جلد 15) — Page 274
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) والے پیغامی تھے جنہوں نے کہا کہ ہم ایک بچہ کی بیعت نہیں کر سکتے۔گل کا بچہ ہو اور ہم پر حکومت کرے یہ ہم سے کبھی برداشت نہیں ہو سکتا۔وہ جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے مگر آپ لوگ طینی طبیعت کے تھے۔آپ نے کہا ہم آدم کے زمانہ سے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دوسروں کی اطاعت کرتے چلے آئے ہیں اب خلیفہ وقت کی اطاعت سے کیوں منہ موڑیں۔مصری صاحب نے بھی اسی ناری طبیعت کی وجہ سے میری مخالفت کی اور انہوں نے کہا کہ میں موجودہ خلیفہ کی اطاعت نہیں کر سکتا اسے معزول کر دینا چاہئے تو آج تک یہ دونوں فطرتیں چل رہی ہیں۔ناری مزاج والے ہمیشہ نظام سے بغاوت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو حُر کہتے ہیں مگر طینی مزاج والے نظام کے ماتحت چلتے اور اپنے آپ کو کامل انسان کہتے ہیں دونوں اصولوں کا جھگڑا آج تک چلا جا رہا ہے، حالانکہ دونوں اِسی زمین میں رہتے ، اسی میں مرتے اور اسی میں دفن ہوتے ہیں اور دونوں ہی کی طرف نبی آتے اور ان سے خطاب کرتے ہیں مگر قاعدہ ہے کہ پہلے تو انبیاء کی تعلیم کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن آہستہ آہستہ جب وہ تعلیم دنیا کی اور تعلیموں پر غالب آ جاتی ہے تو منکر بھی اسے قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ایک خدا کی تعلیم دینی شروع کی تو عیسائی اس تعلیم پر بڑا پہنتے اور کہتے کہ ایک خدا کس طرح ہو گیا ؟ زرتشتی بھی بنتے ،مشرکین مکہ بھی بنتے ،مگر آہستہ آہستہ جب اس تعلیم نے دلوں پر قبضہ جمانا شروع کیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ آج کوئی قوم بھی نہیں جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی قائل نہ ہو۔حتی کہ عیسائی بھی تثلیث کا عقیدہ رکھنے کے باوجود اس بات کے قائل ہیں کہ خدا ایک ہی ہے تو طینی اور ناری مزاج والوں کا جھگڑا آج تک چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ نظر آتا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نئی تعلیم آتی ہے تو کچھ لوگ فرمانبرداری کرتے ہیں اور کچھ غصہ سے آگ بگولا ہو جاتے ہیں اور وہ مخالفت کرنی شروع کر دیتے ہیں۔قرآن کریم میں یہ آگ کا محاورہ بھی استعمال ہوا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک چچا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تبت يدا أبي لَهَبٍ و تب اسے کہ آگ کے فعلوں کا باپ ہلاک ہو گیا۔اب خدا نے اُس کا نام ہی آگ کے شعلوں کا باپ رکھ دیا مگر اس کے یہ معنے تو نہیں کہ اُس سے آگ نکلتی تھی، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ شیطانی قسم کے لوگوں کا سردار تھا ( بعض مفسر اس نام کو کنیت بھی قرار دیتے ہیں اور بعض سفید رنگ کی طرف اشارہ مراد لیتے ہیں) پس خَلَقْتَني مِنْ نارٍ یا مارج من تار سے وغیرہ الفاظ سے اشارہ انسان کی اس حالت کی طرف ہے جب کہ وہ ابھی