انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page iii

انوارالعلوم کی پندرہویں جلد سید نا حضرت مصلح موعود خلیفۃ السیح الثانی کی ذہانت و فطانت، بلند پایه علمی و روحانی مقام اور آپ کی اولوا العزم قیادت کی آئینہ دار ہے۔یہ جلد حضور کی ۲۴ تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے جو آپ نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء سے جولائی ۱۹۴۰ء تک ارشاد فرمائیں۔اس جلد میں سب سے پہلی کتاب ”انقلاب حقیقی کے نام سے شاملِ اشاعت ہے۔حضور نے یہ معرکۃ الآراء خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء کے موقع پر ارشاد فرمایا۔اس میں حضور نے دُنیاوی انقلابات اور روحانی دنیا میں برپا ہونے والے عظیم انقلابوں کا تاریخی حوالہ سے تذکرہ کیا اور جماعت احمدیہ کے ذریعہ پیدا ہونے والے انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے احباب جماعت کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔۱۹۳۸ء تا ۱۹۴۰ ء تک جماعت میں رونما ہونے والے مختلف واقعات کے بارہ میں بھی حضور نے اپنی تحریر و تقریر میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔بعض مرحومین کے تذکرے بھی فرمائے خاص طور پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ ماجدہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے اُن کے اوصاف حمیدہ اور خوبیوں پر روشنی ڈالی ہے۔۱۹۳۸ء میں حضرت مصلح موعود حیدر آباد دکن ، آگرہ اور دہلی تشریف لے گئے اور وہاں بعض تاریخی مقامات کی سیر فرمائی۔جلسہ سالانہ ۱۹۳۸ء کے موقع پر آپ نے اپنی سیر کے دوران جن مادی اشیاء کا مشاہدہ کیا تھا ان کے مماثل عالم روحانی کے مقامات کے حوالہ سے بھی آپ نے معرکۃ الآراء سلسلہ خطابات بعنوان ”سیر روحانی کا آغا ز فر مایا۔اس سلسلہ کی پہلی تقریر بھی اس جلد میں شاملِ اشاعت ہے۔حضرت مصلح موعود کی خلافت کے ۲۵ سال پورے ہونے پر ۱۹۳۹ء میں خلافت جو بلی کی تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پر ہندوستان اور بیرون ممالک کی جماعتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کئے گئے ان ایڈریسز کے جواب میں آپ نے جو خطاب فرمایا وہ بھی اس جلد کی زینت ہے۔اسی طرح ” خلافت را شدہ“ کے عنوان پر اسی سال جلسہ سالانہ پر حضور کی معرکۃ الآراء تقریر ہوئی جس میں نظام خلافت کی ضروت واہمیت اور دیگر پہلوؤں پر