انوارالعلوم (جلد 15) — Page 254
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کسی غرض کے پیدا کر دیا۔تمہیں کیا ہو گیا کہ تم اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ وقد خَلَقَكُمْ اطوارا اُس نے تمہیں یکدم پیدا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے بنایا ہے۔الم تروا كَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوتِ طِبَاقًا - وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا و جَعَل الشَّمْسَ سِرَاجًا - کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو ایک دوسرے کی مطابقت میں رہنے والا بنایا ہے اسی طرح اُس نے چاند بنایا اُس نے سورج بنایا۔والله البتكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَانًا - ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا - اور ان ہی دوروں میں سے جن میں خدا تعالیٰ نے تمہیں گزارا، ایک دور یہ بھی تھا کہ خدا نے تمہیں زمین میں سے نکالا اور آہستہ آہستہ تمہیں اپنے موجودہ کمال تک پہنچایا۔پیدائش انسانی کے مختلف دور یہ ابتدائی پیدائش کا نقشہ ہے جو قرآن کریم نے کھینچا۔اس سے ظاہر ہے کہ ارتقاء کا وہ مسئلہ جسے یورپ والے آج پیش کر رہے ہیں قرآن کریم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ظاہر کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ یہ صحیح نہیں کہ انسان یکدم پیدا ہو گیا یا خُدا نے یوں کیا ہو کہ مٹی گوندھی اور اُس سے ایک انسانی بُت بنا کر اُس میں پھونک ماردی اور وہ چلتا پھرتا انسان بن گیا بلکہ خَلَقَكُمْ اطوارا اُس نے کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے تمہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔واللهُ اثْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نياتا۔اور یہ جو درجہ بدرجہ ترقی ہوئی ہے اس میں انسان کی پیدائش در اصل زمین سے شروع ہوتی ہے۔پھر ہم اسے بڑھاتے بڑھاتے کہیں کا کہیں لے گئے ہیں۔گو یا اسلام نے صاف طور پر آج سے تیرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ انسان یکدم نہیں بنا بلکہ وہ خَلَقَكُمْ اطوارا کے مطابق کئی دوروں میں تیار ہوا ہے اور والله البتكُم مِّن الْأَرْضِ نباتا کے مطابق سب سے پہلے وہ زمین سے تیار ہوا ہے مگر کیا ہی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے تو یہ دو باتیں پیش کی تھیں کہ انسان آہستہ آہستہ تیار ہوا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ زمین میں سے پیدا ہوا ہے مگر مسلمانوں نے اِن دونوں باتوں کو رڈ کر دیا اور ایک طرف تو انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے یکدم بنا دیا تھا اور دوسری طرف اس امر کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ یہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے انسان کو زمین میں سے تیار کیا ہے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے جنت سماوی میں پیدا کیا پھر زمین پر پھینک دیا اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک روحوں کی