انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 220

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے ہے وہ فوراً فہرست منگوالیں گے اور مشتہرین کی ادویات پک جائیں گی لیکن میں نہیں سمجھتا دنیا میں یہی ایک مرض رہ گیا ہے جس کے علاج کی لوگوں کو ضرورت ہے۔بہتیرے ایسے امراض ہیں جن میں اکثر لوگ مبتلا رہتے ہیں اور جن کے صحیح علاج کے وہ واقعی محتاج ہوتے ہیں مگر صحیح علاج انہیں میسر نہیں آتا۔ہمارے ملک میں کھانسی کی عام شکایت پائی جاتی ہے، اسی طرح سل دق ایک عام مرض ہے جو ہندوستان میں پایا جاتا ہے، اسی طرح انتریوں کے کئی امراض ہیں جن میں لوگ مبتلا رہتے ہیں، بواسیر ایک ایسا مرض ہے جس کے کثرت سے مریض ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں بلکہ میں نے ڈاکٹروں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں ہندوستان میں ساٹھ فیصدی بواسیر کے مریض ہیں۔اسی طرح کثرت سے مرض پیچش کے مریض ہمارے ہاں نظر آتے ہیں۔چونکہ گھی لوگوں کو کم ملتا ہے اس لئے ان کی انتڑیوں میں چکنائی نہیں رہتی جس کی وجہ سے انتڑیوں میں مستقل طور پر خراش پیدا ہو جاتی ہے اور پیچش کا مرض مزمن صورت اختیار کر لیتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ کام کی کثرت کی وجہ سے امراض مزمن ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ سُستی اور غفلت کی وجہ سے یعنی یا تو ایسا ہوتا ہے کہ بیماری محسوس بھی ہوتی ہے مگر چونکہ کام کی کثرت ہوتی ہے اس لئے انسان بیماری کی طرف توجہ نہیں کرتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیماری جڑ پکڑ جاتی ہے اور یا پھر سستی کی وجہ سے انسان مرض کو بڑھا لیتا ہے۔تیمار دار سر ہانے بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے دوائی پی لو مگر مریض ہے کہ دوائی پینے کا نام ہی نہیں لیتا بہر حال کسی نہ کسی وجہ سے امراض مزمن ہو جاتی ہیں۔اگر ایسی امراض کے مجرب علاج دنیا کو بتلائے جائیں تو یقیناً اس میں لوگوں کا فائدہ ہے۔اسی طرح دانتوں کی کئی بیماریاں ہیں ، جگر کی کئی بیماریاں ہیں ، طحال کی کئی بیماریاں ہیں ان امراض کے اگر مجرب نسخے شائع کئے جائیں اور کسی مفید دوائی کا اشتہار بھی دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔اسی طرح صنعت و حرفت کی کئی چیزیں ہیں جن کے اشتہارات الفضل میں شائع ہو سکتے ہیں مگر وہ چیزیں جن کا اشتہار لوگوں کیلئے مفید ہوسکتا ہے اس طرف تو توجہ نہیں کی جاتی اور مخصوص امراض کی دوائیوں کے اشتہارات دھڑا دھڑ شائع ہوتے رہتے ہیں۔اسی طرح عدالتوں کے اشتہارات بھی مل سکتے ہیں بشرطیکہ یہ لوگ وہ طریق اختیار کریں جو اخبار نویس اختیار کیا کرتے ہیں۔ہمارا مقابلہ اس وقت کسی ایک قوم یا ایک ملک سے نہیں بلکہ ساری دنیا سے ہے اس لئے ہمیں ہمیشہ یہ دیکھتے رہنا چاہئے کہ عیسائی کیا کر رہے ہیں، یہودی کیا کر رہے ہیں اور کس رنگ میں وہ