انوارالعلوم (جلد 15) — Page 218
انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے نہیں رہے گی۔میں نے بار ہا توجہ دلائی ہے کہ مضامین میں تنوع پیدا کر و علمی اور تاریخی مضامین لکھو،مختلف عنوانات پر مختصر نوٹ لکھو اس طرح تعلیمی، صنعتی ، مذہبی اور اقتصادی مضامین لکھو، مختلف اقوام میں جو رسوم پائی جاتی ہیں ان پر وقتا فوقتا روشنی ڈالو، غیر مذاہب کے حالات لکھو، دلچسپ خبریں شائع کرو اور ان کے دوران میں مذہبی مضامین بھی لکھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری کو نین شکر میں لپٹی ہوئی ہوگی اور ہر کوئی شوق سے اسے کھانے کیلئے تیار رہے گا۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے ایک دودفعہ نہیں بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے اور متواتر توجہ دلائی ہے کبھی میرے توجہ دلانے کے مطابق عمل نہیں ہوتا۔میں نے یہ توجہ براہ راست عملہ کو بھی دلائی ہے اور بڑوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا ہے مگر ہمیشہ ” مرغ کی ایک ٹانگ والا معاملہ رہتا ہے۔کوئی بہشت ہی نہیں کرتا کہ اس مرغ کی دوسری ٹانگ نکلے۔میں تو سمجھا ہی سکتا تھا سو میں نے چھوٹوں کو بھی سمجھا دیا اور بڑوں کو بھی سمجھا دیا۔میں نے افسروں کو بھی کہا کہ اگر ان تجاویز پر عمل نہیں ہوگا تو ہشت ہی کر دو۔مگر افسر ہیں کہ انہیں ہشت کرنا بھی نہیں آتا حالانکہ یہ اخبار یقیناً ایسا دلچسپ بنایا جا سکتا ہے کہ باوجود روزانہ ہونے کے اور باوجود دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ہماری دنیوی ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتا ہے بلکہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ اگر الفضل والے ہمت کریں تو روزانہ خبریں بھی مہیا کر سکتے ہیں مگر اس کے لئے پوری محنت کی ضرورت ہے۔" در حقیقت روزانہ اخبار کا کام بہت بڑا کام ہوتا ہے اور اسے وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جو زندگی کی تمام لذتوں کو چھوڑنے کیلئے تیار ہو جائے۔یورپ کے اخبار والوں کو تو کام کی اتنی کثرت ہوتی ہے کہ انہیں دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ پاگل ہیں۔میں جب ولایت گیا تو میں نے چاہا کہ ایک مشہور اخبار نویس سے ملوں۔میں نے اپنے اس ارادہ کا ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مسٹر میکڈانلڈ وزیر اعظم برطانیہ کے ساتھ آپ آسانی سے ملاقات کر سکتے ہیں لیکن اس اخبار نویس سے آپ کا ملاقات کرنا مشکل ہے کیونکہ بعض دفعہ کئی کئی مہینے لوگ اس کی شکل نہیں دیکھتے۔وہ جسے ہماری پنجابی میں بچ مارنا کہتے ہیں وہ اخبار نویس کی حالت ہوتی ہے اور اس کے لئے بہت بڑی محنت اور بہت بڑی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔اُسے کسی خبر کے سنتے ہی منٹوں میں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے اور اس کی نظر کو ایک ایک خبر پر یوں تیرتے چلے جانا چاہئے جیسے بحری جانو رسمندر کی لہروں پر اپنا سر اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے دو تین سال سے الفضل کے مضامین میں کچھ تنوع پایا جاتا ہے مگر اس میں