انوارالعلوم (جلد 15) — Page 205
انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو تباہی کا دار و مدار اس قوم کی عورتوں پر ہی ہے۔اگر آج کل کی مائیں اپنی اولادوں کی تربیت اسی طرح کرتیں جس طرح صحابیات نے کی تو کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ ان کے بچے بھی ویسے ہی قوم کے جاں نثار سپاہی ہوتے جیسے کہ صحابیات کی اولادیں تھیں۔اگر آج بھی خدانخواستہ جماعت احمد یہ میں کوئی خرابی واقع ہوئی تو اس کی عورتیں ہی ذمہ وار ہوں گی۔الغرض ماؤں کی یہ ذمہ واری اس قدرا ہم ہے کہ اگر مخلص مرد چاہیں کہ وہ اپنی اولادوں کی تربیت کریں تو ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہ ہوگی کیونکہ بچوں کی تربیت کرنے کی طاقت اور ملکہ عورت میں ہی ہے اس لئے تمہیں چاہئے کہ تم اپنی اس اہم ذمہ داری کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کر دو بلکہ پوری توجہ سے اس فریضہ کو ادا کرو۔تم میں سے کتنی ہیں جو یہ چاہتیں ہیں کہ تمہارا بچہ خوبصورت ہو، تندرست ہو۔اگر وہ بدصورت ہوتا ہے یا کالا ہوتا ہے تو تم سارے جہان کے پوڈر لگا لگا کر اس کو خوبصورت بنا کر دیکھنے کی کوشش کرتی ہو لیکن اگر تم اس کو انسانوں والی شکل دے بھی دو مگر اس کی روح انسانوں والی نہ ہو تو کیا تم اس کو دیکھ کر خوش ہو گی ؟ اگر تم اپنے بچوں کی روح کی خوبصورتی کی پرواہ نہ کرو گی تو تم اس کی سخت ترین دشمن ثابت ہوگی کیونکہ تم نے ظاہری شکل تو انسان کی دی مگر اصل میں سانپ اور بچھو سے بدتر بنادیا۔تم نے بے شک اس کی ظاہری زیبائش اور آرائش میں کوئی کمی نہ کی مگر اس کے اندر شیطان پیدا ہو گیا۔پس اگر آج کی عورتیں اپنے بچوں کی تربیت کا خیال چھوڑ دیں گی تو آئندہ نسل انسان نہیں بلکہ سانپ اور بچھو پیدا ہوں گے۔تو پھر کیا تم اس وقت جب سانپ اور بچھو انسانوں کی شکل میں آجائیں ان کو دیکھ کر خوش ہو گی ؟ اگر تمہارے ہی بچے تمہاری تربیت کے نتیجہ میں کسی دن نیک ہوں گے تو وہ تمہارے لئے اور تمہاری روحوں کیلئے دعائیں کریں گے ورنہ وہ تم پر لعنت کے سوا اور کیا بھیجیں گے۔ایسی کئی مثالیں ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کو چوری اور ڈا کے اور جھوٹ کی عادتیں ڈالتی ہیں۔مثلاً ایک بچہ کو چوری کی عادت تھی وہ باہر سے یا سکول سے چیزیں چھر اچرا کر گھر لاتا اور ماں اس سے وہ چیزیں لے لیتی۔ایسی ہی باتوں کے نتیجہ میں وہ پکا چور اور قاتل بن گیا۔اسے پھانسی کی سزا ملی جیسا کہ قاعدہ ہے اس لڑکے سے بھی پھانسی دیے جانے سے قبل پوچھا گیا کہ تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے میری ماں سے ملا دو۔جب اس کی ماں آئی تو اس نے اس کے کان میں بات کہنے کے بہانے پر اس کے کان کو دانتوں سے کاٹ ڈالا۔لڑکے نے اس فعل کی وجہ دریافت کئے جانے پر بتلایا کہ اگر یہ میری ماں نہ ہوتی تو آج میں پھانسی نہ چڑھتا۔اس نے ہی مجھے انسان سے شیطان بنایا ہے۔