انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 169

انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب میں انصاف قائم کرنا ہے اور پھر ایک احمدی دوسرے احمدی کا روحانی رشتہ دار ہے اس لئے ہر احمدی سے محبت اور خوش خلقی سے پیش آنا چاہئے۔تم جب ایک احمدی سے ملو تو تمہیں ایسی ہی خوشی حاصل ہو جیسے اپنے بھائی سے ملتے وقت ہوتی ہے لیکن چونکہ بعض ادنی درجہ کے لوگ اخلاق فاضلہ کو چھوڑ کرنا جائز فائدہ کے حصول کی بھی کوشش کیا کرتے ہیں اس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو ملحوظ رکھو اور انصاف سے کام لو اور ایسی سفارشوں سے اپنے کانوں کو بہرہ رکھو۔ایک اور بات ان کو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ ہر قوم اپنے ماحول میں ترقی کرتی ہے دوسروں کے ماحول میں ترقی نہیں کر سکتی جو شخص دوسروں کے ماحول کو لے کر ترقی کرتا ہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔حال ہی میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا آدمی چل بسا ہے۔یعنی کمال اتاترک اس شخص نے اپنے وطن اور قوم کے لئے بڑی خدمات کی تھیں کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو اس کی قربانیوں کو عظمت اور احترام کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہومگر ایک خطرناک غلطی اس سے یہ ہوئی کہ اس نے اپنی قوم میں مغربیت کا اثر قائم کر دیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے ترکوں کو جسمانی آزادی دلا دی مگر ساتھ ہی ہمیشہ کے لئے ترکوں کو ذہنی غلام بھی بنا دیا ہمیں یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ہم جن مقاصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک مقصد مغربی تمدن کو کچلنا بھی ہے۔مغربی تمدن اس وقت دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے ہمیں اس سے کسی صورت میں بھی متاثر نہیں ہونا چاہئے۔پھر مغربی تمدن بھی ایک نہیں۔فرانس کا تمدن جدا ہے، جرمنی کا تمدن الگ ہے ، انگریزوں کا تمدن اور ہے۔فرانس والے چُپ رہنا پسند نہیں کرتے اور انگریز بات کرنا پسند نہیں کرتے۔میرے اپنے سفر کا ہی واقعہ ہے کہ جب میں روم سے سوار ہوا تو میرے ساتھ ایک یونانی تاجر بھی سوار تھا وہ کپڑوں کا تاجر تھا اور مدت سے انگلستان میں رہتا تھا اس لئے اس کا تمدن اور بود و باش بالکل انگریزوں کی طرح تھی۔ایک اور شخص فرانس کا رہنے والا تھا وہ ہمارے ساتھ ہی سوار ہوا۔اُن دنوں جب میں واپس آ رہا تھا تو انگریزی اخباروں میں میری تصویریں بپ جایا کرتی تھیں اور میرے گزرنے کے پروگرام شائع ہو جاتے تھے۔جب ہم ایک اسٹیشن پر پہنچے تو چند مستورات ہمارے کمرے میں داخل ہوئیں۔وہاں بڑے آدمی کو پرنس یعنی شہزادہ کہتے ہیں مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ان مستورات نے مجھ سے پوچھا کہ پرنس جو ہندوستان سے آیا ہے وہ کہاں ہے؟ میں نے انہیں کہا مجھے تو علم نہیں۔وہ عورتیں چلی گئیں اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئیں اور کہنے لگیں آپ نے ہم سے دھوکا کیا ہے آپ ہی تو پرنس ہیں۔میں نے انہیں کہا