انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 162

انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب الله قسم کی علیحدگی ہم میں نہیں رہتی اور یہ سارے ادارے اور کارخانے ایک ہو جاتے ہیں۔جب کسی شخص کے ہاتھ کو اندھیرے میں کوئی دوسرا شخص چھوٹے اور پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو وہ کہے گا میں ہوں۔یا اس شخص کی ٹانگ کو کوئی ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ تم کون ہو تو وہ یہی کہے گا کہ میں ہوں۔یا اس شخص کے سر کو کوئی ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ میں کسے ہاتھ لگا رہا ہوں تو وہ کہے گا کہ مجھے۔یا اس کی پیٹھ پر ہاتھ لگائے اور پوچھے کہ تم کون ہو؟ تو وہ پھر بھی یہی کہے گا کہ میں ہوں۔گویا ان سب سوالات کے پیچھے ایک ہی جواب ہو گا۔اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو جسم کے باقی اعضاء کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔بے شک رقابت اچھی چیز ہے قرآن مجید نے بھی ہمیں حکم دیا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الخيرات سے کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو مگر ہر امر میں رقابت کا حکم نہیں صرف خیرات۔یعنی نیکیوں میں رقابت کا سبق دیا گیا ہے۔گو یا خیرات کہہ کر اللہ تعالیٰ نے مسابقت کی ایک نرالی شکل بنادی ہے۔ہر وہ مسابقت جو اپنی ذات میں بُرائی رکھتی ہے اس حکم سے نکل جاتی ہے۔ہر وہ مقابلہ یا مسابقت جس میں حسد ہو یا عداوت ہو وه فاستبقوا الخيرات میں داخل نہیں کیونکہ فاستبقوا الخيرات میں صرف نیکیوں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔پس تمام وہ مسابقتیں اور وہ مقابلے جن کے نتائج میں حسد، عناد اور بغض پیدا ہوتا ہے اس حکم کے دائرے سے خارج ہیں۔صرف وہی مسابقتیں اور مقابلے جائز اور درست اور مفید ہیں جن کے نتیجے خیر اور نیکی پیدا کرتے ہیں پس گو یہ ادارے مختلف ہیں مگر حقیقت میں ایک ہی ہیں۔یہ جماعت کی ضرورتیں ہیں جن کو مختلف شکلیں دی گئی ہیں۔ایک ادارہ اگر جماعت کا سینہ ہے تو دوسرا پاؤں ہے۔اسی طرح یہ سب ادارے جماعت کے لئے اعضاء ہیں کوئی کان ہے، کوئی ناک، کوئی سر ہے تو کوئی آنکھیں۔غرض یہ ساری چیزیں در حقیقت ایک جسم ہیں جن کے پیچھے ایک میں ہے جو بول رہی ہے اور وہ میں احمدیت ہے جوسب اداروں پر چھائی ہوئی ہے۔ان میں کسی ادارہ کا نقص احمدیت میں نقص پیدا کرتا ہے اور ان میں سے کسی کا کمال احمدیت کا کمال ہوتا ہے پس گو نام جُدا جُدا ہیں لیکن حقیقت ان کی ایک ہی ہے۔مولوی شیر علی صاحب دواڑھائی سال کام کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔مولوی صاحب ایسے کام کیلئے باہر بھیجے گئے تھے جو اس وقت جماعت کے لئے بہت ضروری ہے۔اس کام کا مشکل حصہ یعنی ترجمہ کا کام پورا ہو چکا ہے اب دوسرا کام نوٹوں کا ہے جو لکھے جا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں