انوارالعلوم (جلد 15) — Page 159
انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو۔۔لگ گئے ہیں تم سمجھتے تھے کہ ادھر ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور ادھر دس دن کے اندر ہی اندر ساری دنیا کے بادشاہ بن گئے۔یہاں عرضًا کا لفظ منافع کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی اگر ان کے منافع اور مطلب سهل الحصول ہوتے وَ سَفَرًا قاصد اور دین کی خدمت کا سفر چھوٹا ہوتا لا تبعُوك تو وہ تیرے ساتھ چل پڑتے۔یہاں آتيَعُوت کا لفظ ظاہری معنوں پر بھی مشتمل ہے اور باطنی معنوں پر بھی۔یعنی اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر چھوٹا سفر ہوتا تو وہ تیرے ساتھ چل پڑتے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اگر تیرے راستہ میں مشکلات نہ ہوتیں اور انہیں کئی قسم کی قربانیاں نہ کرنی پڑتیں تو وہ آسانی سے تیرے ساتھ شامل ہوتے۔مگر چونکہ تیرا راستہ کٹھن اور سخت دشوار ہے اس لئے وہ تیرے ساتھ چلنے کے لئے آمادہ نہیں۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ:۔د مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُر خار بادیہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں ،، میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔جو جدا ہونے والے ہیں وہ جُدا ہو جائیں اور مجھے میرے خدا پر چھوڑ دیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر تم نے دیانت داری سے احمدیت کو قبول کیا ہے، اگر تم یقین رکھتے ہو کہ سلسلہ احمد یہ سچا ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدا تعالیٰ کی پیروی ہے اور مسیح موعود کی پیروی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے۔تو اے مردو اور عورتو! تم تحریک جدید کے اغراض اور مقاصد میں میرے ساتھ تعاون کرو اور انصار اللہ بن جاؤ۔مجھے تم سے کوئی غرض نہیں۔اگر تم میرے ان مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر راضی کر لو گے اور اگر تم ان مطالبات پر عمل نہیں کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر ناراض کر لو گے۔(الفضل ۱۶ جون ۱۹۵۹ء) التوبة : ٣٩،٣٨ التوبة : ٤٠ الصفت : ۴۸ التوبة ٤١ بخاری کتاب الاعتصام باب ما ذكر النبي الله (الخ) کے بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبي عل الله (الخ) التوبة:٤٢ و انوار الاسلام صفحه ۲۳ ۲۴ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳ ۲۴ الجمعة : ۴