انوارالعلوم (جلد 15) — Page 147
انوار العلوم جلد ۱۵ کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ ء کے متعلق چند خیالات اگر سمجھوتہ اس اصول پر نہیں بلکہ اس اصول پر ہے کہ ہر قوم اپنے افراد اور لیاقت کے مطابق حصہ لے خواہ مجالسِ آئین میں ہو، خواہ ملازمتوں میں ، خواہ ٹھیکہ وغیرہ میں گوا قلیت کو اس کے حق سے استمالت قلب کے لئے کچھ زیادہ دے دیا جائے اور اس کے ساتھ یہ شرطیں ہوں کہ اقلیت کے مذہب ، اس کی تہذیب اور تمدن کی ہمیشہ حفاظت کی جائے گی تو یہ ایک جائز اور درست اور منصفانہ معاہدہ ہوگا۔مگر جہاں تک میں نے اخبارات سے پڑھا ہے ایسا کوئی معاہدہ مسلمانانِ کشمیر اور دیگر اقوام میں نہیں ہوا اور نہ میں سمجھ سکا ہوں کہ موجودہ حالات میں وہ اقوام جو ملازمتوں اور ٹھیکوں اور دوسرے حقوق پر قابض ہیں وہ اس آسانی سے اپنے حاصل کردہ فوائد مسلمانوں کو واپس دینے کیلئے تیار ہو جائیں گی اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو لازماً یہ اتحاد بعد میں جا کر فسادات کے بڑھ جانے کا موجب ہوگا۔اگر کوئی کامیابی ہوئی اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تو غیر مسلم اقوام کہیں گی کہ جد و جہد تو صرف اختیارات پبلک کے ہاتھ میں لانے کے لئے تھی سو وہ آگئے ہیں کسی قوم کو خاص حق دینے کے متعلق تو تھی ہی نہیں۔ہم بھی کشمیری تم بھی کشمیری ملازمت ہمارے پاس رہی تو کیا تمہارے پاس رہی تو کیا۔جو لوگ عہد وں پر ہیں وہ زیادہ لائق ہیں اس لئے قوم کا کوئی سوال نہیں اٹھانا چاہئے کہ اس میں ملک کا نقصان ہے اور اگر مسلمانوں کا زور چل گیا اور انہوں نے مسلمانوں کو ملازمتوں، ٹھیکوں وغیرہ میں زیادہ حصہ دینا شروع کیا تو دوسری اقوام کو رنج ہوگا اور وہ کہیں گی کہ پہلے ہم سے قربانی کروائی اب ہمیں نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ایک دوسرے پر بدظنی اور بدگمانی شروع ہو جائے گی اور فتنہ بڑھے گا گھٹے گا نہیں اور اب تو صرف چند وزراء سے مقابلہ ہے پھر چند وزراء سے نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں پر مشتمل اقوام سے مقابلہ ہو گا کیونکہ حقوق مل جانے کی صورت میں اس قوم کا زور ہو گا جو اس وقت ملازمتوں وغیرہ پر قائم ہے خواہ وہ تھوڑی ہو اور وہ قوم دست نگر ہوگی جو ملازمتوں میں کم حصہ رکھتی ہے خواہ وہ زیادہ ہو اور یہ ظاہر ہے کہ چند وزراء کو قائل کر لینا آسان ہے مگر ایسی جماعت کو قائل کرنا مشکل ہے جس کی پشت پر لاکھوں اور آدمی موجود ہوں کیونکہ گو وہ قلیل التعداد ہو حکومت اور جتھامل کر اسے کثیر التعداد لوگوں پر غلبہ دے دیتا ہے اور سیاسی ماہروں کا قول ہے کہ نہ مقید بادشاہ کی حکومت ایسی خطرناک ہوتی ہے نہ غیر ملکی قوم کی جس قدر خطر ناک کہ وہ حکومت ہوتی ہے جس میں قلیل التعدا د لیکن متحد قوم اکثریت پر حکمرانی کر رہی ہو کیونکہ اس کا نقصان ملک کے اکثر حصہ کو پہنچتا ہے لیکن اس کا ازالہ کوئی نہیں ہو سکتا۔دنیا کی تاریخ کو دیکھ لو کہ ایسی حکومتیں ہمیشہ دیر پا رہی ہیں اور انہوں نے