انوارالعلوم (جلد 15) — Page 134
انوار العلوم جلد ۱۵ جماعت احمدیہ سے قربانی کا مطالبہ نے اس بارہ میں وقف زندگی کا دودفعہ اعلان کیا ہے اور نو جوانوں نے بڑھ بڑھ کر اس آواز کا جواب بھی دیا ہے لیکن ابھی مجھے اس سلسلہ میں اور آدمیوں کی ضرورت ہے۔یہ لوگ گریجوایٹ ہونے چاہئیں کچھ انگریزی کے اور کچھ عربی کے یعنی اپنے آپ کو پیش کرنے والے نو جوان یا بی اے ہوں یا مولوی فاضل ہوں تا کہ ان کی ابتدائی تعلیم پر روپیہ اور وقت خرچ نہ ہو۔میں امید کرتا ہوں کہ سلسلہ کے نوجوان اس معاملہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے اور اپنی قربانی سے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک اچھا نمونہ قائم کریں گے۔دینی کاموں کے لئے عربی کی تعلیم نہایت ضروری ہے لیکن میں نے انگریزی کے گریجوایٹ بھی طلب کئے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں تبلیغ بغیر انگریزی کے نہیں ہو سکتی۔اس طرح بہت سے کام ہندوستان میں بھی انگریزی دان طبقہ ہی کر سکتا ہے۔اگر بعض فنون کے ماہر بھی اپنے آپ کو پیش کریں تو وہ مفید ہو سکتے ہیں جیسے ڈاکٹر یا وکیل۔یہ وقف کرنے والے لوگ وہی ہوں جن کو یا گھر سے امداد کی امید ہو سکے یا پھر قلیل گزاروں پر کام کرنے کیلئے تیار ہوں۔میں متواتر کہہ چکا ہوں کہ تحریک جدید کے کام کی بنیاد روپیہ پر نہیں رکھی گئی۔اس میں شامل ہونے والے دوست ایک مجاہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کچھ مل گیا تو انہیں دے دیا جائے گا نہ ملا تو نہ دیا جائے گا۔اس کی تفصیلات اختصاراً اس سال کی شوری کے ایجنڈے میں شائع ہو چکی ہیں۔جو دوست دیکھنا چاہیں اپنی جماعت کے سیکرٹری کے پاس دیکھ سکتے ہیں یا دفتر تحریک جدید سے منگوا سکتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے نوجوان جو ہمیشہ ایسے مواقع پر اپنے ایمان کا ثبوت دیتے چلے آئے ہیں ، آج بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔اس وقت پانچ انگریزی کے اور دس بارہ عربی کے گریجوایٹ اس صیغے میں کام کر رہے ہیں اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ قربانی نوجوانوں کیلئے ناممکن نہیں۔میرا منشاء یہ ہے کہ تحریک جدید کے ماتحت وقف کرنے والے نو جوانوں کو دینی ودنیوی علوم میں پوری مہارت پیدا کرائی جائے تا کہ وہ حسب ضرورت سلسلہ کے ہر کام کو سنبھالنے کے قابل ہوں اور اگر مالی طور پر انہیں دوسروں سے زیادہ قربانیاں کرنی پڑیں تو عملی طور پر انہیں بدلہ بھی دوسروں سے زیادہ مل جائے۔یہ پہلی قسط ہے جماعت سے قربانی کے مطالبہ کی جو میں جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں اور پھر خلاصہ اسے دُہرا دیتا ہوں۔سچائی اور دیانت کا اقرار اور اپنے تمام کاموں میں عملاً اس کا اظہار حتی کہ غیر لوگ بھی