انوارالعلوم (جلد 15) — Page 120
انوار العلوم جلد ۱۵ فیصلہ ہائی کورٹ بمقدمہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمدیہ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ فیصلہ ہائی کورٹ بمقد مہ میاں عزیز احمد اور جماعت احمدیہ ( تحریر فرموده جنوری ۱۹۳۸ء) پانچ تاریخ کو میاں عزیر احمد کی اپیل کا فیصلہ جو ہائی کورٹ کے دو فاضل جوں نے سنایا ہے اس میں بعض ایسے فقرات بھی ہیں جن سے بعض مخالف اخبارات نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا عدالت عالیہ کے نزدیک میاں فخر الدین کے قتل کی تحریک خلیفہ جماعت احمدیہ کی تقریروں سے ہوئی ہے چنانچہ اس مخالف پرو پیگنڈا کی وجہ سے جماعت کے دوستوں کو بہت تکلیف ہوئی ہے اور باوجود اس کے کہ ”الفضل نے اس فیصلہ کے بارہ میں کوئی مضمون نہیں لکھا اور اس کی وجہ سے اکثر احباب جماعت جو سوائے ” الفضل“ کے اور کوئی اخبار نہیں پڑھتے اس فیصلہ سے بے خبر ہیں۔جن جن دوستوں کی نگاہ سے دوسرے اخبارات گزرے ہیں وہ رنج و غم سے بے تاب ہو رہے ہیں اور ان کے خطوط جو مجھے آ رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض تو مارے غم کے دیوانے ہو رہے ہیں۔جن لوگوں کے خطوط موصول ہوئے ہیں ان میں سے اکثر کے خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر کے پڑھنے کے بعد وہ کھانا نہیں کھا سکے اور رات کو نیند بھی ان کو نہیں آئی اور بعض نے تو نہایت درد سے لکھا ہے کہ خدایا یہ کیا غضب ہے کہ جس شخص نے ہمیں نرمی اور محبت اور رافت کی تعلیم دی اور جس نے ہمیں سختی اور ظلم اور فساد سے روکا اور جس نے ہماری طبیعتوں کی وحشت کو دور کر کے پیار اور محبت کا ہمیں سبق دیا اور دشمنوں سے بھی حسنِ سلوک کی ہمیں ہدایت کی اور ہمارے شدید ترین غصہ کی حالت میں ہمارے جذبات کو سختی سے قابو میں رکھا ، اُسی کی