انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 112

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی بھی اسلام کے احکام پر عمل کریں گے اور اس تمدن کو قائم کریں گے جس تمدن کو قائم کرنے کا اسلام نے حکم دیا اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ہر ایک اپنے عہد پر مضبوطی سے قائم رہے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان باتوں پر فورا عمل کرنا شروع کر دے گا جن پر عمل کرنا اس کے اختیار میں ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں، ان کا منہ تمہارا عملی نمونہ دیکھ کر بند ہو جائے اور تم یہ دعویٰ کر سکو کہ اگر ہم بہتک کرتے ہیں تو دیکھو کہ حمد صلی اللہ علیہ وسلم کن میں زندہ ہیں اور ہر شخص اقرار کرے کہ آپ احمد یوں کے وجود میں زندہ ہیں۔اس کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا تمدن اسلامی کے قیام میں مشکلات ہوں۔بہت سے حصے اس تقریر کے ایسے ہیں جن کو میں نے بغیر تشریح کے چھوڑ دیا ہے۔ان کی تشریح کسی اور کتاب میں اگر اللہ تعالیٰ چاہے بیان ہو جائے گی۔اسی طرح میں علماء سے کتابیں لکھوانے کی بھی کوشش کروں گا۔البتہ دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اقرار کرنا آسان ہوتا ہے مگر عمل کرنا مشکل۔کئی لوگ ہیں جنہوں نے یہاں تو اقرار کیا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اپنی جائداد کا حصہ دیں گے مگر جب گھر پہنچ کر اس پر عمل کرنے لگیں گے تو بیٹے کہیں گے کہ ہمارے ابا اپنی جائداد بر باد کر رہے ہیں اور اس طرح تمہارے راستے میں کئی روکیں حائل ہوں گی پس تم اس وقت ایک پختہ عزم لے کر اُٹھو اور یا درکھو کہ باتیں کرنا آسان ہوتی ہیں مگر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔اگر عمل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو اس مسئلہ پر آپ نے پہلے ہی عمل کر لیا ہوتا کیونکہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں جو آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا گیا بلکہ آپ اسے پہلے بھی جانتے تھے لیکن باوجود علم کے عمل نہیں کرتے۔پس جذبات کی رو میں جب چاروں طرف سے نعرے لگ رہے ہوں عہد کر لینا آسان ہوتا ہے اور کئی کمزور بھی اس عہد میں شامل ہو جاتے ہیں مگر جب کام کا وقت آتا ہے تو وہ بہانے بنانے لگ جاتے ہیں اور جماعت کے ان افسروں کو جو کام پر متعین ہوتے ہیں بدنام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پس میں جانتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں قسم قسم کے فساد پھیلیں گے اور لوگ افسروں کو بد نام کریں گئے انہیں شرارتی اور فسادی قرار دیں گے جیسے قادیان میں جب بعض لوگوں کو سزا دی جاتی ہے تو وہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کو یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے شریعت کی فلاں بے حرمتی کی تھی جس کی انہیں سزا ملی۔بلکہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں افسر کی ہم سے کوئی ذاتی عداوت تھی جس کے نتیجہ میں ہمیں یہ سزا