انوارالعلوم (جلد 14) — Page 36
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔" مرزا محمود نے مجلس احرار کو چیلنج دیا ہے کہ آؤ مجھ سے مرزا کی نبوت پر قادیان آکر مباہلہ کرو۔زعمائے احرار نے مرزا محمود کے اس چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔“ ( مجاہد صفحه ۲ ) صلى الله الله لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے چیلنج اس امر کا دیا تھا کہ احرار جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمد یہ رسول کریم ﷺ سے مرزا صاحب کے درجہ کو بڑھاتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی بہتک کرتی ہے اس پر لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں اس پر مجھے معلوم ہوا کہ احرار نے کہا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر بھی مباہلہ ہو اور قادیان میں ہو۔اس پر میں نے لکھا کہ اگر صداقت پر بھی مباہلہ کرنا ہے تو بے شک یہ مباہلہ بھی ہومگر یہ مباہلہ الگ ہو اور رسول کریم ے سے بانی سلسلہ احمدیہ کو بڑھا کر پیش کرنے کے الزام کے متعلق الگ مباہلہ ہو اور قادیان کے متعلق لکھا کہ اگر احرار کو لا ہور یا گورداسپور پر کوئی خاص اعتراض ہے تو وہ قادیان آ سکتے ہیں۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ چنیوٹ کی تقریر میں صدر احرار کا نفرنس نے قطعاً غلط بیانی سے کام لیا ہے۔(1) بانی سلسلہ احمدیہ کے دعوی کے متعلق مباہلہ کے چیلنج کو میری طرف منسوب کیا ہے حالانکہ یہ چیلنج احرار کی طرف سے تھا اور شاید مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کو اپنے صدر کی تقریر یاد نہ تھی کہ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ چیلنج خود ان کی طرف سے تھا۔(۲) صدر صاحب کہتے ہیں کہ مرزا محمود نے قادیان آ کر مباہلہ کرنے کا چیلنج دیا ہے حالانکہ میں نے لاہور یا گورداسپور کا چیلنج دیا تھا نہ کہ قادیان کا اور اظہر صاحب نے اپنی تقریر میں اس کو بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ تجویز خود ان کی طرف سے تھی۔(۳) اظہر صاحب نے جہاں ان دو باتوں میں اپنے صد ر صاحب کے بیان کی قلعی کھول دی ہے، وہاں اپنی طرف سے ایک غلط بیانی زائد بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ:۔میں نے کہا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے اور مرزا غلام احمد کی صداقت پر ہونا چاہئے۔مرزا محمود نے تسلیم کر لیا ہے کہ بے شک احرار قادیان میں ہی آ کر ہم سے مباہلہ کر لیں۔“ اس فقرہ کو پڑھ کر ہر شخص یہی سمجھے گا کہ گویا میں نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے اور سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے متعلق ہی ہونا چاہئے نہ کہ ہتک آنحضرت