انوارالعلوم (جلد 14) — Page 560
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر اسے علیحدہ کر دے گی کیونکہ خلافت قوم کی ہے نہ کہ شخص کی اور خلیفہ قوم کا نائب ہے۔جب تک افراد کا تعلق رہے وہ حاکم ہو گا مگر جب قوم کا سوال آئے گا وہ ان کے مشورہ کا پابند ہوگا اور اگر نہیں مانے گا تو الگ کیا جائے گا۔جب ایک قدم انسان غلط اُٹھاتا ہے تو اسے دوسرا قدم بھی غلط اُٹھا نا پڑتا ہے۔جب خوارج کا دماغی توازن بگڑا تو ان کے خیالات کی رو اب اس طرف گئی کہ رسول کریم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ اپنے حاکم سے الگ نہیں ہونا جب تک اس سے کفر بواح نہ دیکھو۔۲۷ تو پھر اگر اس طرح امیر سے الگ ہونا جائز ہے تو اس حدیث کے کیا معنی ہوں گے۔آخر انہوں نے اس کا یہ جواب تجویز کیا کہ کفر نام ہے نافرمانی کا اور جو کوئی گناہ کرتا ہے وہ نافرمانی کرتا ہے۔پس جس شخص کی نسبت ثابت ہو کہ اس نے کوئی کام خلاف قرآن کیا ہے وہ گنہگار ہے اور جب گنہ گار ہے تو کافر ہے اور جب کا فر ہے تو رسول کریم ﷺ کے حکم کے مطابق اس کے خلاف خروج جائز ہے۔اسی طرح ان میں کسی بد عملی پر کا فرقرار دینے کا مسئلہ رائج ہو گیا اور اس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کے خون انہوں نے کئے۔جیسے عبداللہ بن خباب اور دھقان ایرانی کا خون صرف حضرت علی کو نیک کہنے کی وجہ سے کیا گیا۔ان لوگوں کا طریق بالکل آجکل کے احراریوں کی طرح تھا۔حضرت علی لیکچر دیتے تو یہ لوگ بیچ میں شور مچا دیتے تھے۔چنانچہ ایک دن آپ مجلس میں بیٹھے تھے تا کہ ابو موسیٰ کو بھجوائیں کہ دو خارجی زرعہ اور حرقوص آئے اور انہوں نے نعرہ لگایا کہ لَا حُكُمَ إِلَّا لِلَّهِ حضرت علیؓ نے فرما یا درست ہے۔لَا حُكْمَ إِلَّا لِلهِ۔اس پر حر قوص نے کہا اے علی ! اپنے گناہ سے تو بہ کرو اور اپنے فیصلہ کو واپس لو اور دشمن سے لڑنے کے لئے نکلو۔حضرت علیؓ نے کہا۔جب میں نے کہا تھا بات نہ مانی اب تو عہد ہو چکا عہد تو ڑا نہیں جا سکتا۔حرقوص نے کہا یہ عہد نہیں یہ تو گناہ ہے اس سے تو بہ کرنی چاہئے۔حضرت علیؓ نے کہا یہ گناہ نہیں رائے کی غلطی ہے جس سے میں نے تم کو روکا تھا مگر تم باز نہ آئے۔اس پر زرعہ نے کہا اے علی! اگر تم تحکیم الرجال سے باز نہ آئے تو میں تم سے لڑوں گا۔حضرت علیؓ نے کہا مجھے نظر آ رہا ہے کہ تو لڑائی میں مارا جائے گا اور ہوا تیری لاش پر چلے گی۔اس نے کہا کاش ! خدا کی راہ میں ایسا ہی ہو۔اس پر دونوں کھڑے ہو گئے اور لاحُكْمَ إِلَّا لِلہ کے نعرے لگاتے ہوئے چلے گئے۔اسی طرح حضرت علی ایک دن لیکچر دے رہے تھے تو خوارج مسجد کے اندر پھیل کر بیٹھ گئے