انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 549

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر عَلِيٌّ عَلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ وَمَنْ مَّعَهُمْ وَقَاضى مُعَاوِيَةُ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ وَمَنْ مُّعَهُمْ - إِنَّنَا نَزِلُ عِندَحُكُمُ اللهِ وَكِتَابِهِ و أَنْ لا يَجْمَعَ بَيْنَنَا غَيْرُهُ و أَنَّ كِتَابَ اللهِ بَيْنَنَا مِنْ فَاتِحَتِهِ إِلى خَاتِمَتِهِ - نُحْيِي مَا أَحْيَا وَنُمِيْتُ مَا أَمَاتَ فَمَا وَجَدَ الْحَكَمَان فِي كِتَابِ اللهِ وَهُمَا اَبُوْمُؤسَى عَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسِ وَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَمِلَابِهِ وَمَا لَمْ يَجِدَاهُ فِي كِتَابِ اللهِ فَالسُّنَّةَ الْعَادِلَةَ الْجَامِعَةَ غَيْرَ المُفَرَّقَةِ - ٢٠ یعنی یہ وہ اقرار نامہ ہے جو علی ابن ابی طالب اور معاویہ ابن ابی سفیان کے درمیان لکھا گیا ہے حضرت علی نے اہلِ کو فہ اور ان تمام لوگوں کی طرف سے جو ان کے ساتھ ہیں ایک حکم مقرر کیا ہے اسی طرح معاویہ نے اہلِ شام اور ان تمام لوگوں کی طرف سے جو ان کے ساتھ ہیں ایک حکم مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اُس کے حکم کو قاضی قرار دے کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حکم اور خدا تعالیٰ کی کتاب کے حکم کے سوا ہم کسی اور بات کا اس معاملہ میں دخل نہیں ہونے دیں گے اور یہ کہ ہم سورۃ فاتحہ سے لے کر والناس تک تمام قرآن شریف کو مانتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ قرآن کریم جن کاموں کے کرنے کا ہمیں حکم دے گا ہم ان کی تعمیل کریں گے اور جن سے منع کرے گا اُن سے رُک جائیں گے۔دونوں حکم جو مقرر ہوئے ہیں وہ ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اور عمرو بن العاص ہیں یہ دونوں جو کچھ کتاب اللہ میں پائیں گے اس کے مطابق فیصلہ کریں گے اور اگر کتاب اللہ میں نہیں پائیں گے تو سنت عادلہ جامعہ غیر مختلف فیھا پر عمل کریں گے۔ہاں ایک تیسری بات جس سے کوفیوں اور شامیوں میں سازش کا پتہ چلتا ہے یہ ہے کہ جب حضرت علیؓ نے کہا کہ یہ کمیٹی فلاں جگہ بیٹھ جائے اور معاملات پر غور و خوض کرے تو حضرت علیؓ کے ساتھی کہنے لگے ہم تو اس کمیٹی کو شام کے قریب بٹھا ئیں گے تا اس پر تمہارا اثر نہ ہو۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ در حقیقت معاویہ کے ساتھ تھے اور محض فتنہ پیدا کرنے کیلئے حضرت علی سے ملے ہوئے تھے۔اس کے بعد حضرت علیؓ نے اپنے لشکر سے اور حضرت معاویہ نے اپنے لشکر سے اس بات کا اقرار لیا کہ فیصلہ سنانے کے بعد حکلمین کے جان و مال اور اہل وعیال سب محفوظ رہیں گے اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی جائے گی۔چنانچہ دونوں لشکروں نے اس کا اقرار کیا مگر ابھی اس معاہدہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ایک فریق انہی میں سے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا دین کے معاملہ میں کمیشن کیسا؟ کیا ہم نے ان دو شخصوں کے ہاتھ میں اپنا ایمان بیچ دیا ہے کہ یہ جو